سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 276 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 276

جائیں گے اور اس طور پر تقسیم کی کارروائی کی تکمیل کی جائے گی۔جہاں اس بیان سے مجھے یہ اطمینان تو ہوا کہ آخر حکومت برطانیہ نے قیام پاکستان کو تسلیم کر لیا وہاں مجھے اس اعلان کے اس حصے سے سخت پریشانی بھی لاحق ہوئی کہ حکومت کے اختیارات عبوری مرحلے میں صوبائی حکومتوں کو تفویض کئے جانے کا امکان ہے۔جب جناب قائد اعظم نے برطانوی وفد کے منصوبے کو منظور فرمالیا تھا اس وقت ان کے اس فیصلے سے میرا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا کہ وہ میرے اندازے سے بھی بڑھ کر صاحب تدبیر ثابت ہوئے۔میری نگاہ میں برطانوی وفد کے منصوبے کا ایک قابل قدر پہلو یہ تھا کہ پہلے دس سال میں اکثریت کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنے منصفانہ رویے اور حسن سلوک کے ذریعہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کریں کہ آزاد ہندوستان میں ان کے جائز حقوق کی مناسب نگہداشت ہوگی اور ان کے جذبات اور احساسات کا احترام ہو گا۔ہر چند کہ سابقہ تجربہ کچھ ایسا امید افزا نہیں تھا پھر بھی جناب قائد اعظم کا اس منصوبے کو عملاً آزمانے پر تیار ہو جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کا موقف کسی قسم کی ضد پر مبنی نہیں تھا۔بعد کے حالات سے یہ بھی ترشح ہوتا ہے کہ ممکن ہے کانگریس کے بعض عناصر نے وفد کے منصوبے کو تسلیم کرنے کی تائید اس توقع میں کی ہو کہ مسلم لیگ اسے رد کر دے گی اور وفد کی ناکامی کی ذمہ داری لیگ پر ڈالی جائے گی جس کے نتیجے میں برطانوی حکومت کی نظروں میں پاکستان کا مطالبہ کمزور ہو جائے گا۔جب لیگ نے وفد کا منصوبہ تسلیم کر لیا تو ان عناصر کا اندازہ غلط ثابت ہوا اور انہوں نے منصوبے کو نا کام کرنے کی راہیں تلاش کرنا شروع کیں۔بہر صورت آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ہر صاحب فہم کی نظر میں وفد کی ناکامی کی ذمہ داری کانگریس پر عائد ہوئی اور پاکستان کا مطالبہ مضبوط تر ہو گیا۔لیکن اس مقصد تک پہنچنے کا پہلا مرحلہ جب یہ قرار دیا گیا کہ حکومت کے اختیارات صوبائی حکومتوں کو تفویض کئے جائیں گے تو پنجاب کے حالات کے پیش نظر میری طبیعت نہایت کرب میں مبتلاء ہوئی۔” جناب سکندرحیات خان صاحب کی وفات کے بعد جناب ملک خضر حیات خان صاحب پنجاب میں وزیر اعظم ہوئے۔یہ جناب سردار صاحب کے رفقاء میں سے تھے اور ان کی جگہ یونینسٹ پارٹی کے سربراہ ہوئے لیکن یو نینسٹ پارٹی کے عناصر میں جلد