سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 269
۲۶۹ "۔۔۔۔۔دو سو سال سے ہندوستان غلامی کی زندگی بسر کرتا چلا آیا ہے اور یہ ایک ایسی خطرناک بات ہے جو انسانی جسم کو کپکپا دیتی ہے۔بے شک بعض لوگ ایسے اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوتے ہیں کہ خواہ انہیں قید خانوں کے اندر رکھا جائے تب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں غلامی ان کے قریب بھی نہیں آتی مگر بیشتر حصہ بنی نوع انسان کا ایسا ہی ہوتا ہے جو ظاہری غلامی کے ساتھ دلی غلام بھی بن جاتا ہے۔ہم ہندوستان میں روزانہ اس قسم کے نظارے دیکھتے ہیں جو اس غلامی کا ثبوت ہوتے ہیں جو ہندوستانیوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے۔ہندوستان کے لوگوں کی یہ حالت جو بیان کی گئی ہے اس میں اعلیٰ اخلاق کے لوگ شامل نہیں۔ان لوگوں کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ خواہ وہ صلیب پر لٹک رہے ہوں یا جیل خانوں میں بند ہوں تب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں کیونکہ اصلی آزادی جسم کی آزادی نہیں بلکہ دل کی آزادی ہے۔جب تک ہندوستان کے عوام الناس کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے، جب تک ہندوستان کے مزدوروں کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے، جب تک ہندوستان کے زمینداروں کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے اور جب تک ہم ان میں بیداری اور حرکت پیدا نہیں کر لیتے اس وقت تک نہ ہندوستان آزاد ہو سکتا ہے نہ ہندوستان حقیقی معنوں میں کام کر سکتا ہے۔جس دن ہندوستانیوں کے ذہن سے یہ نکل جائے کہ ہم غلام ہیں ، جس دن ہندوستانیوں کے ذہن سے غلامی کا احساس نکل جائے اس دن ان میں تعلیم بھی آجائے گی ، ان میں جرات اور دلیری بھی پیدا ہو جائے گی اور ان میں قربانی و ایثار کی روح بھی رونما ہو جائے گی۔” یہاں چالیس کروڑ انسان غلامی میں مبتلاء ہے۔چالیس کروڑ انسان کی ذہنیت نهایت خطرناک حالت میں بدل چکی ہے ، نسلاً بعد نسل وہ ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں۔وہ انگریز جس نے ہندوستان پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کر رہا ہے لیکن سیاسی لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں کہ تمہارے اتنے ممبر ہونے چاہئیں اور ہمارے اتنے ہم ایک قلیل جماعت ہیں اور ہم ان حالات کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے لیکن ہماری جماعت یہ دعا ضرور کر سکتی ہے کہ اے خدا خواہ مسلمان لیڈر ہوں یا ہندو تو ان کی آنکھیں کھول اور انہیں اس بات کی توفیق عطا فرما