سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 268
РУЛ ee - حیدر آباد دکن ۲۲ فروری ۱۹۴۵ء میں حضرت چوہدری صاحب کی غیر معمولی خدمات کی تعریف کی گئی۔غیر مسلم پریس بھی اس معاملہ میں پیچھے نہ رہا اور "پر بھارت " " ویر بھارت " " پر تاپ" "ریاست '' پریت لڑکی نے بڑے شاندار طریق پر اس بیان پر تبصرہ کیا۔لارڈ ویول وائسرائے ہند نے انگلستان سے واپس آکر اپنی ایک نشری تقریر میں آزادی کے منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا:۔" میں ملک معظم کی طرف سے پورے اختیارات کے ساتھ یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہندوستان کی تمام منتظم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل نئی انتظامیہ کونسل بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوت دوں گا کہ وہ اپنے مشوروں سے مجھے مستفید کریں۔۔۔۔انتظامیہ کونسل قریباً مکمل طور پر ہندوستانی ہوگی۔۔۔۔اس عارضی گورنمنٹ کے قیام کا ہندوستان کے قطعی و آئینی تصفیہ پر کسی طرح بھی اثر نہ پڑے گا۔نئی کو نسل کا بڑا کام یہ ہو گا کہ :۔(1) جاپان کے خلاف پوری طاقت سے جنگ لڑی جائے تاکہ اسے شکست ہو جائے۔(۲) برطانوی ہند کی حکومت کے کام کو۔۔۔۔۔چلایا جائے۔(۳) یہ غور کیا جائے کہ کن ذرائع کو اختیار کرنے سے ہندوستانی پارٹیاں باہم افہام و تفہیم کر سکتی ہیں۔میری رائے میں یہ کام بہت اہم ہے۔میں یہ بات برملا یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ان تجاویز سے ملک معظم کی حکومت کا مقصد ہندوستانی لیڈروں کے سمجھوتہ کو ممکن بناتا ہے۔اپنی تقریر کے آخر میں آپ نے کہا کہ ہمارے سامنے بہت سے نشیب و فراز ہیں۔ہمیں معاف کرو اور بھول جاؤ کے سنہری اصول پر عمل کرنا پڑے گا۔" (نشری تقریر بحواله الفضل ۱۶ جون ۱۹۴۵ء) یہ امر بہت ہی تعجب خیز اور حیران کن ہے کہ طویل صبر آزما جد وجہد اور قربانیوں کے بعد آزادی کی منزل سامنے نظر آنے لگی تو ہندوستان کی دونوں بڑی جماعتوں نے اس پیشکش کو نا قابل قبول قرار دے دیا اور بظاہر یوں نظر آنے لگا کہ آزادی کی منزل قریب آنے کے بعد پھر پہلے کی طرح دور ہو گئی ہے۔قومی آزادی کے اس انتہائی اہم موڑ پر اسیروں کے رستگار نے چالیس کروڑ غلاموں کی آزادی کیلئے اپنے ایک نہایت مئوثر خطاب میں فرمایا :۔