سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 257 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 257

۲۵۷ مجرأت نہ ہوتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ سارے علوم میں ہی ترقی کے راستے بند ہو گئے اور ترقی رک جانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ طبیعتوں میں سستی اور کاہلی پیدا ہو گئی۔گویا مسلمانوں نے نبوت کو تو کیا ختم قرار دیا آہستہ آہستہ انہوں نے ہر وصف کو ہی ختم کر ڈالا اور نہ فقہ رہی نہ طب رہی نہ فلسفہ رہا نہ اخلاق رہے اور نہ بہادری رہی۔غرض اس ذہنیت نے کہ پہلوں کے دریافت کردہ علوم ہی ہمارے لئے کافی ہیں اب ان میں اضافہ بدعت ہے مسلمانوں کے ذہنوں پر مہر لگادی ہے اور سرعت کے ساتھ گرتے چلے گئے اور غفلت اور کوتاہی ان پر چھا گئی۔" (الفضل ۷۔جنوری ۱۹۴۷ء) پر دوسری ترقی یافتہ اقوام سے آگے بڑھنے اور کامیابی کے حصول کا مفید و مؤثر لائحہ عمل بتاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔" اصل کامیابی اللہ تعالی کی رضا کا حصول ہے۔آرام اور آسائش اس کے نتیجہ میں ملتے ہیں خود مقصود بالذات نہیں ہوتے اور نیز یہ بتایا گیا ہے کہ کامیابی کاگر یہ ہے کہ کوئی قوم ان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے جو قربانی چاہتے ہیں اور جن کا فائدہ بادی النظر میں انسان کی اپنی ذات کو نہیں بلکہ دوسروں کو پہنچتا ہے دوسری اقوام سے آگے بڑھنے اور اول رہنے کی کوشش کرے یہی وہ گر ہے جسے ہماری قوم نے نظر انداز کر دیا ہے اور یہی وہ گر ہے جس کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ہمارے اند ر دولتمند بھی ہیں اور صاحب جائیداد بھی لیکن باوجود اس کے ہم کامیاب نہیں اس لئے کہ ہماری قوم اور ہمارے اہل ملک کی کوششیں اپنے نفس کی عزت اور اپنے آرام کے حصول کے لئے خرچ ہوتی ہیں لیکن کامیابی کا گر یہ ہے کہ قوم اپنے نفس کو بھلا کر ان کاموں میں لگ جائے جو بنی نوع انسان کی مجموعی ترقی کا موجب ہوں۔(تو) یہ قوم کامیاب ہوتی ہے اور اس کا ذکر خیر دنیا سے کبھی نہیں مٹ سکتا۔میں امید کرتا ہوں کہ میرے برادران وطن ای صداقت کو سمجھ کر اس کی طرف پوری توجہ کریں گے۔خالی نقل سے وہ ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ بعض علوم و فنون میں اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ ہونے کی کوشش نہیں کریں گے اور دوسری اقوام کو اپنے پیچھے چلانے میں کامیاب نہ ہونگے وہ برابر ناکامی کا منہ دیکھتے رہیں گے۔لیکن کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہماری سابقہ ناکامیاں ہمیں بیدار کر دیں ، کیا ہماری پستی کیلئے اور کوئی قعر مذلت باقی ہے جہاں