سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 253
۲۵۳ کیا ان کو بے جا دکھ پہنچایا یا نہیں ؟ کیا گڑھ مکتیسر میں شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور کالڑ کا تمہارے مظالم کا شکار ہو ایا نہیں ؟ حالانکہ وہ ہیلتھ آفیسر تھا اور وہ تمہارے میلے میں اس لئے گیا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کرے ، اگر تم میں سے کسی کو زخم لگ جائے تو اس پر مرہم پٹی کرے۔وہ ایک ڈاکٹر تھا اور ڈاکٹری ایک ایسا پیشہ ہے جس کو فرقہ وارانہ حیثیت نہیں دی جا سکتی۔وہ بیچارا تمہارے علاج معالجہ کے لئے گیا تھا اس کو تم نے کیوں قتل کر دیا گیا؟ اس سے بڑھ کر بھی شقاوت قلبی کی کوئی اور مثال ہو سکتی ہے کیا اس سے آگے بھی کوئی ظلم کی حد ہے ؟ پھر اس کی بیوی نے خود مجھے اپنے درد ناک حالات سنائے۔اس نے بتایا کہ غنڈوں نے اس کے منہ میں مٹی ڈالی، اسے مار مار کر ادھ موا کر دیا، اس کے کپڑے اتار لئے اور اسے دریا میں پھینک دیا اور پھر اس پر بس نہ کی بلکہ دریا میں پھینک کر سوٹیوں کے ساتھ دباتے رہے تاکہ اس کے مرنے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ تیرنا جانتی تھی اور وہ ہمت کر کے ہاتھ پاؤں مار کر دریا سے نکل آئی اور پھر کسی کی مدد سے ہسپتال پہنچی۔کیا اس سے بڑھ کر بے دردی کی کوئی اور مثال ہو سکتی ہے کہ ایک ناکردہ گناہ شخص اور پھر عورت پر اس قسم کے مظالم توڑے جائیں۔کیا اس قسم کی حرکات سفاکانہ نہیں ہیں ؟ ان حالات کی موجودگی میں اگر ہمارے لئے دونوں طرف ہی موت ہے تو ہم ان لوگوں کے حق میں کیوں رائے نہ دیں جن کا دعوی حق پر ہے ؟ تیرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اگر ہم ان تمام حالات کی موجودگی میں جو اوپر ذکر ہو چکے ہیں انصاف کی طرفداری کریں گے تو کیا خدا تعالی ہمارے اس فعل کو نہ جانتا ہو گا کہ ہم نے انصاف سے کام لیا ہے۔جب وہ جانتا ہو گا تو وہ خود انصاف پر قائم ہونے والوں کی پشت پناہ ہو گا۔لکھنے والے نے تو لکھ دیا کہ احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو کابل میں ان کے ساتھ ہوا تھا مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہاں ہے امان اللہ ؟ اگر اس نے احمدیوں پر ظلم کیا تھا تو کیا خدا تعالیٰ نے اس کے اسی جُرم کی پاداش میں اس کی دھجیاں نہ اُڑا دیں۔۔حکومت کو تباہ نہ کر دیا حکومت کے تارو پود کو بکھیر کر نہ رکھ دیا۔۔۔اس کی شان و شوکت رعب اور دبدبہ کو خاک میں نہ ملایا ؟ اگر ہم انصاف کا پہلو اختیار کریں گے اور اس کے باوجود ہم پر ظلم کیا جائے گا تو وہ ظالموں کا وہی حشر کرے گا جو