سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 238
٢٣٨ طرح کے طعنوں سے بھڑکایا لیکن باوجود ان کے اشتعال اور غیرت دلانے کے ہم نے اپنے جذبات کو دبائے رکھا اور فتنوں اور فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کے مٹانے کی سعی کی ہے۔لیکن ایک بات ہے جو میں اپنی جماعت کے دوستوں کو سنا دینا اور ساری دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ مومن اگر ایک وقت اپنی نرمی آشتی اور صلح جوئی کے لئے ہر ایک قربانی کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے تو جس وقت اس کی اس آزمائش اور اس امتحان کو ایسے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے جہاں سے آگے چلنے سے شریعت اسے روک دیتی ہے اس وقت اس سے بڑھ کر بہادر اور جری بھی کوئی نہیں ہو تا۔اس وقت اسے بہادری اور شجاعت دکھانے سے نہ دنیا کی حکومتیں روک سکتی ہیں نہ گورنمٹیں اس کا کچھ کر سکتی ہیں کیونکہ دنیا میں کسی کام سے رکنے اور باز رہنے کی دو ہی وجوہ ہوتی ہیں۔اول شریعت اور عقل کہتی ہے کہ یہ کام نہ کرو۔دوسرے بُزدلی اور منافقت کہتی ہے اس سے پیچھے ہٹ جاؤ لیکن جب مومن کو معلوم ہو جائے کہ شریعت اور عقل فلاں کام کرنے سے روکتی نہیں بلکہ اس کے کرنے کا حکم دیتی ہے تو ایک ہی بات باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ بزدلی اسے کام کے کرنے سے روک دے۔مگر خدا کے بندے کبھی بزدل نہیں ہوتے۔پس ہم اپنی ان قدیم روایات کو قائم رکھتے ہوئے جن کی وجہ سے ہم نے اپنے ہم قوموں اور اپنے بھائیوں سے لڑائی مول لی ان کی ناراضگی برداشت کی، ان کے طعنے سنے انہیں قائم رکھتے ہوئے سعی کریں گے کہ دنیا میں امن قائم رہے فتنہ و فساد پیدا نہ ہو مگر دنیا کو یہ بھی معلوم ہو جانا چاہئے کہ جہاں ہم خود ابتداء نہ کریں گے وہاں اگر کوئی ہمارے متعلق ابتداء کرے گا تو ہم اس کی کوئی حرکت بھی برداشت نہیں کریں گے اور وہ وہ کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و خیال میں بھی نہ ہو گا۔ہم کسی کے خلاف ہاتھ نہیں اٹھاتے لیکن جو ہاتھ ہمارے خلاف اٹھے گاوہ شل کیا جائے گا اور وہ کبھی کامیابی سے نیچے نہیں جھکے گا۔ہم نے کبھی باتیں نہیں بنا ئیں کبھی بڑھ بڑھ کر دعوے نہیں کئے اور اس وجہ سے لوگوں کے اعتراض بھی سنے جب انہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے کہ ہم یہ کر دیں گے۔وہ کر دیں گے اس وقت ہم ان کے دعووں میں شریک نہ ہوئے اس لئے کہ ہم جانتے تھے یہ محض دعوے ہیں جن پر کبھی عمل نہیں کیا جائے گا۔غرض ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم خون کی ندیاں بہادیں گے۔ہم تو