سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 231
۲۳۱ امام جماعت احمدیہ کی تجاویز مندرج ہیں۔میں تہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔سائمن کمیشن کی تجاویز پر یہی ایک مفصل تنقید ہے جو میری نظر سے گزری ہے۔میں ان تفصیلات کے متعلق کچھ عرض نہ کروں گا جن کے متعلق اختلاف رائے ایک لازمی امر ہے لیکن میں اس اخلاص، معقولیت اور وضاحت کی داد دیتا ہوں جس سے کہ ہر ہولی نس(His Holiness ، امام جماعت احمدیہ) نے آپ کی جماعت کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور میں ہر ہولی نس کے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے اس امر کے متعلق بلند خیالی سے بہت متاثر ہوا ہوں۔" مجھے افسوس ہے کہ میں ابھی تک بارنس میں حاضر ہو کر آپ کی مسجد کو نہیں دیکھ سکا اور نہ آپ سے ملاقات کر سکا ہوں۔کل امید ہے کہ اگر موسم نے مجھے اتنا سفر کرنے کی اجازت دی تو میں چوہدری ظفر اللہ خان کی دعوت سے فائدہ اٹھا کر آپ کے ساتھ آپ کے اپنے لوگوں میں ملاقات کروں گا۔" لارڈ کریو۔سابق وزیر ہند لارڈ کر یو مسئلہ ہند پر امام جماعت احمدیہ کی تصنیف کردہ کتاب بھیجوانے کے لئے امام مسجد لنڈن کے بہت ممنون ہیں۔انہوں نے یہ کتاب دلچسپی سے پڑھی ہے۔" سرای گیٹ (Sir E۔Gatt) میں جناب کا کتاب ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل کے ارسال کے لئے نہایت شکر گذار ہوں اور اسے نہایت دلچسپی سے پڑھ رہا ہوں۔" سر گر یم بوور " میں مسئلہ ہند پر آپ کی ارسال کردہ کتاب کے لئے آپ کا بہت مشکور ہوں اور میں اسے نہایت دلچسپی سے پڑھوں گا۔گول میز کے مندوبین نے ابتداء تو اچھی کی ہے۔یوں تو میرا خیال ہے کہ فیڈرل سسٹم کو بھی پسند کرتے ہیں لیکن تفاصیل کے متعلق دقتیں ہیں۔مثلا ہندوستان کی فوجی اقوام اکثر مسلمان ہیں اور ہندی افواج میں اعلیٰ ترین رجمنٹیں مسلمانوں کی ہیں۔تو کیا یہ تجویز ہے کہ انگریز افسروں کی بجائے ہندی افسر مقرر کر دیے جائیں؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نظام چل نہ سکے گا۔یہی میری رائے پولیس کے متعلق ہے۔فوج اور پولیس کا سوال ظاہر ا تو بہت آسان ہے لیکن عملاً اتنا آسان نہیں۔