سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 222
۲۲۲ تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" سلسلہ احمدیہ کی سیاسیات کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ حکومت اور رعایا کے تعلقات کی بنیاد قانون کے احترام اور پر امن جدوجہد پر ہونی چاہئے اور فساد سے دونوں کو پر ہیز کرنا چاہئے اور حکومت اور رعایا دونوں کا فرض ہے کہ قانون کی جب تک وہ بدلے نہیں پیروی کریں اور اگر غلط قانون ہے تو جائز ذرائع سے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔اس تعلیم کے ماتحت ہماری جماعت جس جس حکومت کے ماتحت بستی ہے ہمیشہ فتنہ کی راہوں سے الگ رہتی ہے اور چونکہ اکثر حصہ جماعت احمدیہ کا انگریزی حکومت کے ماتحت ہے لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ جماعت انگریزوں کی جاسوس ہے لیکن آپ سے بہتر ا سے کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر غلط ہے۔ہم نے ہمیشہ دلیری سے ہندوستانیوں کے حقوق کا مطالبہ کیا ہے" (صفحہ ۴۱) ہم ( آزادی کے سلسلہ میں۔ناقل ) کانگریس یا دوسری جماعتوں سے پیچھے نہیں کیونکہ اپنے ملک کی غلامی سوائے بیوقوف اور غدار کے کوئی شخص پسند نہیں کر سکتا۔" (تحفہ لارڈارون صفحہ ۷) انگلستان میں مسلم مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں لابنگ کی کمی کی طرف حضور ہمیشہ توجہ دلاتے رہے اور اس کے ازالہ کی ہر ممکن کو شش بھی فرماتے رہے۔آزادی کے اعلان سے قبل کنزرویٹو پارٹی کی شکست کی وجہ سے (Labour ) پارٹی بر سراقتدار آچکی تھی۔اس تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے اور مسلم امہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے دعا کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" برطانیہ نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ۱۹۴۸ء میں کسی نہ کسی کو حقوق دے دیئے جائیں گے۔بظاہر کسی نہ کسی سے کوئی خاص قوم مراد نہیں لی جا سکتی لیکن یہ صاف بات ہے کہ جس کی آواز میں زیادہ طاقت ہوگی اور جس کے تعلقات زیادہ ہوں گے وہ انہی کو اختیارات عطا کریں گے۔ہندوؤں نے نہایت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے لیبر پارٹی سے بہت دیر سے تعلقات استوار کر رکھے ہیں لیکن اس کے بر عکس مسلمانوں نے ان سے تعلقات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ مسلمانوں کی آواز کو زیادہ قدر کی نگاہ سے نہ دیکھیں گے۔ان ہولناک ایام کے تصور سے رونگٹے