سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 221 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 221

۲۲۱ کب رکھا جائے گا۔بہر حال چونکہ رپورٹ ہمارے سامنے آگئی ہے اس لئے اس کے حسن و فتح کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اس پر غور کرنے کے بعد بھی میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سکیم ہر گز ملک کے لئے مفید نہیں ہو سکتی۔خصوصاً مسلمانوں کو تو اس سے سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔" (الفضل ۲۔اکتوبر ۱۹۲۸ء) مفاد ۱۹۲۹ء کے شروع میں جماعت کے ایک وفد نے گورنر پنجاب سے ملاقات کر کے مسلم مفا کے بعض ضروری مطالبات پیش کرتے ہوئے یہ امر بھی ذہن نشین کروایا کہ ہمارے مطالبات وہی ہیں جو عام مسلمانوں کے مطالبات ہیں۔چنانچہ اس وفد نے گورنر کو بتایا کہ :۔ابتداء میں ہم یہ عرض کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے سیاسی حقوق صوبہ کی مسلم اکثریت سے جدا نہیں۔۔۔مختصر اہمارے مطالبات یہ ہیں کہ ہندوستان میں فیڈرل طرز کی حکومت ہو۔۔۔۔۔اور ہر صوبہ کو آزادی ہو کہ اپنی حالت کے موافق ترقی کے لئے جو راہ چاہے اختیار کر سکے۔دوسرے جداگانہ انتخاب کو اس وقت تک قائم رکھنا ہے جب تک کہ سیاسی میدان سے فرقہ وارانہ جذبات معدوم نہ ہو جائیں۔تیسرے یہ کہ اندریں اثنا مختلف اقوام کے لئے تناسب آبادی کے لحاظ سے صوبہ جاتی لیجسلیچر میں نشستیں مخصوص کر دی جائیں۔چهارم یہ کہ سندھ کو علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے اور اسے بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو دوسرے صوبہ جات کو ہیں۔پنجم یہ کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اصلاحات نافذ کر دی جائیں۔ششم تمام مذاہب کے لئے کامل آزادی کا اصول تسلیم کیا جائے اور یہ بات تمام سابقہ باتوں کے ساتھ ملک کے کانسٹی ٹیوشن میں داخل سمجھی جائے۔یہ ہمارے مطالبات ہیں اور یو را یکسی لینسی اس امر سے آگاہ ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت کے بھی یہی مطالبات ہیں۔" ۱۹۳۱ء میں تحفہ لارڈارون کے نام سے حضور نے وائسرائے کے نام مکتوب کی شکل میں ایک مؤثر تبلیغی کتاب تحریر فرمائی۔سلسلہ احمدیہ کی سیاست کے متعلق اصولی