سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 217 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 217

۲۱۷ ملاقات کر کے مسلم موقف کی وضاحت کرتے اور ضروری لٹریچر مہیا کرتے۔چنانچہ امام مسجد لندن کے دار العلوم ( House of Commons ) میں ایک خطاب کا ذکر کرتے ہوئے روزنامہ الفضل لکھتا ہے۔" ۱۸ مئی ۱۹۳۱ء پیر کے روز خاکسار کی تقریر ہاؤس آف کامنز میں دونوں ایوانوں کے کنزرویٹو ممبروں کے سامنے ہوئی۔۔۔۔۔۔۔خاکسار نے بتایا کہ راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس میں ڈومینین اسٹیٹس (Dominion Status) کے لئے متحدہ مطالبہ تھا کہ جب تک ہندو مسلمانوں کے ساتھ خاطر خواہ تصفیہ نہ کریں تب تک مسلمان مطمئن نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔صاحب صدر اور سر سموئیل نے یقین دلایا کہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔خاکسار نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندو چونکہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ کرتے نظر نہیں آتے اس لئے برٹش قوم کو ہمارے حقوق کا خیال کرنا چاہئے اور اس دوستی کا حق ادا کرنا چاہئے جس کا مسلمانوں نے برٹش قوم کے ساتھ تمام اوقات میں (الفضل ا۔جون ۱۹۳۱ء) اظہار کیا ہے۔" روزنامہ الفضل قادیان کی ۲۳ اپریل ۱۹۴۶ء کی اشباعت میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب مشمس کی رپورٹ میں یہ امر بھی شامل ہے کہ :۔حضرت فضل عمر نے وزارتی مشن اور ہندوستانی لیڈروں کے نام جو پیغام رقم فرمایا ہے اسے پارلیمنٹ کے ممبروں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔" اس رپورٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمار الندن مشن دعوت و اصلاح کی خدمات کے ساتھ ساتھ حضور کی ہدایت ورہنمائی کے مطابق آزادی کے اس محاذ پر برابر سرگرم عمل تھا۔گول میز کانفرنسوں کے موقع پر بھی مسلم وفد کو امام مسجد لندن کی طرف سے ہر قسم کی ضروری امداد میسر آتی رہی جس کا اعتراف ان وفود کے ممبروں کی طرف سے وقتاً فوقتاً پر لیں اور نجی مجالس میں ہو تا رہتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جد وجہد آزادی کے عروج کے زمانہ میں ہر مسلمان رہنما کی توجہ احمد یہ مسجد لندن کی طرف رہتی۔علامہ اقبال بھی احمدیہ مسجد میں تشریف لے گئے اور نو مسلموں قرآن مجید کی تلاوت سن کر خوشی کا اظہار کیا۔لیگ آف نیشنز League of Nations میں ہندوستان کے نمائندہ خاں بہادر شیخ عبد القادر صاحب وزیر پنجاب پریذیڈنٹ لیجسلیٹو کونسل ( Legislative Council ) نے اس مسجد کو تمام سے