سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 218 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 218

۲۱۸ مسلمانوں کیلئے اپنے ایمان کا ثبوت دینے کا ذریعہ قرار دیا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی زندگی کے دوسرے اور زیادہ کامیاب دور کا آغاز احمد یہ مسجد لندن میں ”ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل" کے عنوان پر تقریر سے کیا اور آپ کی اس تقریر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امام مسجد لندن قومی مفاد کے کاموں میں گہری اور مسلسل دلچسپی رکھتے تھے۔برطانیہ میں اسلامی مفاد کے اس نهایت ضروری پہلو پر پوری توجہ دینے کے ساتھ ساتھ آپ نے وطن میں انگریز حکمرانوں سے بھی برابر اس غرض سے رابطہ رکھا کہ مسلمانوں کے حقوق اور مطالبات نظر انداز نہ کر دیے جائیں۔مثل ۱۹۲۱ء میں لارڈ ریڈنگ ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے تو حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر جماعت کا ایک وفد شملہ جاکر ان سے ملا۔اس وفد نے ترکی کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا ازالہ کرنے کیلئے وائسرائے کو ان الفاظ میں توجہ دلائی۔" ہم لوگ مذہب سلطان لڑکی کو خلیفہ نہیں مانتے مگر ہم اس کے متعلق یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم کو ٹرکی کی مصیبت میں ہمدردی ضرور ہے کیونکہ ہمارے نزدیک اس سے اس طرح معاملہ نہیں کیا گیا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا اور ہمارے نز دیک چونکہ یہ ایسی غلطی ہے جس کی بروقت اصلاح ہو سکتی ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ گورنمنٹ ہند اس کے لئے جد و جہد ترک کردے۔۔۔۔۔اسی ایڈریس میں سرزمین حجاز کی آزادی کے احترام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ” یہ سوال اہم ہے کہ حجاز کی آزادی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنا چاہئے۔جب حجاز کی آزادی کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت یہی سوال ہر ایک کے دل میں کھٹک رہا تھا کہ کیا ترکوں سے اس ملک کو آزاد کرانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بوجہ بنجر علاقہ ہونے کے وہاں کی آمد کم ہوگی اور حکومت کے چلانے کے لئے اسے غیر اقوام سے مدد لینی پڑے گی اور اس طرح کوئی یورپین حکومت اس کو مدد دے کر اسے اپنے حلقہ اثر میں لے آئے گی۔ہم امید کرتے ہیں کہ جناب اس غلط قدم کے اٹھانے کے خطرناک نتائج پر ہوم گورنمنٹ کو فور اتوجہ دلائیں گے۔" لارڈ ریڈنگ نے اس ایڈریس کے جواب میں ان مطالبات کو موثر رنگ میں حکومت تک پہنچانے اور ایسی صورت پیدا کرنے کی کوشش کرنے کا وعدہ کیا جو عدل و انصاف اور معقولیت پر مبنی