سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 200
اور قربانیوں کو ضائع کر دینے کے مترادف ہے۔آپ اس خطرناک معاہدے کے عواقب و نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس سمجھوتے کے ماتحت مسلمانوں کو گو پنجاب یوپی بہار اور سی پی میں ان کی تعداد سے زیادہ حق نیابت مل گیا ہے مگر وہ پھر بھی ان صوبوں میں قلیل التعداد ہی رہے اور ان کی آواز برادران وطن سے نیچی ہی رہی لیکن اس کے مقابلہ میں پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی کثرت قلت سے بدل گئی۔جب سے یہ سمجھوتہ ہوا ہے میں نے اس وقت سے اس کے خلاف آواز اٹھانی شروع کی تھی اور واقعات نے میری رائے کی صحت کو ثابت کر دیا مجھے پرانی لیگ کے بعض پر جوش ممبروں سے گفتگو کا موقع ملا ہے اور میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب میں نے مسلمانوں کے ان نمائندوں کو مسلمانوں کے حقوق سے بالکل ناواقف پایا۔جب میں نے یہ نقص ان لوگوں کے سامنے پیش کیا کہ مسلمانوں کو سب صوبوں کی مجالس نیابتی میں قلیل التعداد رہنے کی وجہ سے نقصان پہنچے گا۔اگر بنگال اور پنجاب میں وہ کثیر التعد اد رہتے تو یہ بہتر تھا بہ نسبت اس کے کہ دوسرے صوبوں میں انہیں کچھ زیادہ حق مل جاتا کیونکہ پنجاب ہندوستان کا ہاتھ ہے اور بنگال سر۔ان دونوں جگہ کی طاقت سے مسلمان باقی صوبوں کے مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھ سکتے تھے۔تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ صرف پنجاب کی دو فیصدی زیادتی کو قربان کیا گیا ہے ورنہ بنگال میں تو مسلمان کم ہی ہیں حالانکہ واقع یہ ہے کہ بنگال میں مسلمانوں کی طاقت پنجاب سے بھی بڑھ کر ہے۔واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ سودا مسلمانوں کو مہنگا پڑا ہے۔" (الفضل ۱۴۔فروری ۱۹۲۵ء) حضور کی بصیرت اور عارفانہ پیش بینی، بالکل صحیح اور بروقت تھی اور زیادہ عرصہ نہیں گزرنے پایا تھا کہ مسلم زعماء اپنے اس معاہدہ کے خطرناک مضمرات کو سمجھ کر اس سے دستبردار ہو گئے اور یہ اعتراف کیا کہ :۔"بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنا واقعی ایک ایسا اقدام تھا جو ہیں۔اپنے ہاتھوں اپنی جڑوں پر تیر چلانے کے مترادف تھا۔" حیات محمد علی جناح میں جناب مولانار کیس احمد جعفری اس معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے