سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 188 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 188

I^^ مذکورہ بالا اصولی نکات میں حضور نے اپنی خداداد فراست سے ہندوستان کے مخصوص حالات میں جداگانہ انتخاب کو ضروری قرار دیا۔حقیقت بھی یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں مخلوط انتخابات کا طریق جاری رہتا تو مسلمان کبھی بھی اپنے حقوق حاصل نہ کر سکتے۔ہندو تو پہلے ہی اکثریت میں تھے چند صوبوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں ہندو بآسانی اپنی سازشوں اور سرمایہ کے زور پر تمام نشستیں اپنے لئے یا اپنے ہم خیال نام نہاد نیشنلسٹ مسلمانوں کیلئے حاصل کر سکتے تھے اس طرح پاکستان کبھی بھی معرض وجود میں نہ آتا۔یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک بلکہ شملہ کانفرنس کے انعقاد تک قائد اعظم بھی مخلوط انتخاب کے حامی تھے۔مسلم قیادت نے جداگانہ انتخاب کے اصول پر عمل پیرا ہو کر ہی اپنی منزل مراد آزاد مملکت پاکستان حاصل کی۔مگر بہت ہی دلچسپ صورت حال اس وقت سامنے آتی ہے جب حضور کی اس زمانہ کی رہنمائی میں یہ امر بھی نظر آتا ہے کہ آپ کی دور بین نگاہیں اور مومنانہ فراست یہ جانتی تھی کہ جداگانه انتخاب موجودہ حالات اور موجودہ فضا میں لابدی اور ضروری ہے تا ہم یہ صورت تبدیل ہو جائے تو جداگانه انتخاب نقصان دہ ثابت ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں۔و بعض حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ جن کی موجودگی میں وہی قوانین جو آج قلیل التعداد جماعتوں کے لئے رگ گردن کی طرح ضروری ہیں کل اس جماعت اور تمام ملک کے لئے ضروری ہوں۔مثلاً انتخاب جداگانہ قاعدہ ہی ہے اگر تمام اقوام میں کامل اعتماد پیدا ہو جائے اور دلی کدورتیں بالکل صاف ہو جا ئیں تو اس وقت اس پر کار بند رہنا ایسا ہی مضر ہو گا جیسا کہ اس وقت اس کا ترک کرنا۔" (اساس الاتحاد صفحه ۲۴) ان مفید تجاویز کو ایک اور موقع پر کسی قدر تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا :۔رواداری کے مفہوم کو بالکل غلط سمجھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں بہت سے جھگڑے مذہبی رسوم پر پیدا ہوئے ہیں۔مثلاً عید، دسہرہ اور محرم کے مواقع پر جھگڑے ہو جاتے ہیں۔باجا بجانا اور گائے کی قربانی کرنا فساد کی بنیاد بن جاتی ہے۔لیکن میں بغیر کسی رو رعایت کے کہتا ہوں کہ باجہ مسلمانوں کی عبادت میں خلل انداز نہیں ہو سکتا۔اس طرح گائے کی قربانی مسلمان کے اپنے گھر میں اس کے مذہبی احکامات کی بناء پر ہندوؤں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتی اس سلسلہ میں یہ اصول قابل غور ہے کہ کیا کسی