سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 167 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 167

146 یقیناً انڈونیشیا کی حکومت سب سے زیادہ ہالینڈ کے ساتھ تعلق رکھے گی اور اپنے طبعی ذرائع کی فراوانی کی وجہ سے جب طاقت پکڑے گی تو یقینا ہالینڈ کی مدد کیلئے اس طرح تیار رہے گی جس طرح امریکہ انگلستان کی مدد کیلئے تیار رہتا ہے۔جماعت اپنے اخباروں اور رسالوں میں ان کی آزادی کی آواز اٹھاتی رہے اور دوسرے مسلمانوں میں بھی ان کے متعلق ہمدردی کے جذبات پیدا کرے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ڈچ حکومت مغربی ممالک کی مدد لے کر جاوا اور سماٹرا کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اگر وہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہو کامیاب ہو گئی تو یہ چھ سات کروڑ مسلمان بھی غلامی کی زنجیروں میں پھنس جائیں گے اور اگر ہماری جماعت ان کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئی تو جماعت کا یہ پہلا قدم ہو گا جو اسلام کی سیاسی مضبوطی کا موجب ہو گا۔" (الفضل ۲۷۔اگست ۱۹۴۶ء) دنیائے اسلام کیلئے اسرائیل کا قیام ایک ناسور کی طرح ہے جو مخالف اسلام مسئله فلسطین استعماری طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے سرطان کے زخم کی طرح اپنی نقصان رسانی اور فتنہ آشامی میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اس انتہائی خوفناک سازش کو حضور نے شروع میں ہی بھانپ لیا اور ۱۹۴۵ء میں اپنے ایک خطاب میں آپ نے سورۃ ص کے دوسرے رکوع کی تفسیر بیان کرنے کے بعد فرمایا :- کل جب میں نماز پڑھ رہا تھا یہ آیات میرے قلب پر نازل ہو ئیں اور بتایا گیا کہ ان میں موجودہ زمانہ کے متعلق پیشگوئی ہے۔دراصل یہود کی سلطنت کا قیام حضرت داؤد علیہ السلام کے ذریعے ہوا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں میں داؤد کا تخت " اور " داؤد کا ورثہ " کے الفاظ بطور تمثیل رائج ہیں۔پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی داؤد کے تخت پر بیٹھنے کا ذکر آیا ہے۔قرآن کریم نے ان آیات میں ایک پیشگوئی کی جو اس آخری زمانہ کے متعلق تمثیلی بھی ہے اور رویا بھی۔اس میں خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ داؤد کی نسل سے تعلق رکھنے والے یا اس پر ایمان لانے والے (جو یہودی بھی ہیں اور عیسائی بھی) ان کے پاس ننانوے حصے دنیا کی طاقت ہوگی اور ان کے مقابلہ میں رسول اکرم میں اہل علم کی امت کے پاس صرف ایک حصہ رہ جائے گی مگر پھر بھی یہ لوگ ریشہ دوانیاں کریں گے کہ وہ ایک حصہ بھی ان کے تصرف میں آجائے۔۔۔یورپ