سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 161 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 161

141 یعنی جاوا سماٹرا کے جزائر ہیں جن میں سات کروڑ کے قریب مسلمان ہیں۔ان کی ایک ہی مل اور ایک زبان اور ایک ہی مذہب اسلام ہے۔اسلامی دنیا میں یہ ایک حصہ ایسا ہے جہاں کی آبادی بھی اچھی ہے اور جو ایک قوم ہونے اور ایک زبان بولنے کے علاوہ آپس میں متحد ہونے کے خواہشمند ہیں۔ملایا کا ملک بھی گوان سے الگ ہے مگر قوم اور بولی کے لحاظ سے ان سے ملتا ہے۔وہاں بے شک چینی اور ہندوستانی آباد بھی ہیں مگر اصل ملک ملائیوں کا ہے۔سماٹرا، جاوا بورنیو سب جزائر مسلمان ہیں۔صرف جاوا میں ہی چار کروڑ مسلمان آباد ہیں۔اس علاقہ میں کوئی دس ہزار کے قریب چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جو کہ قریباً سارے کے سارے مسلمان ہیں۔کوئی پانچ مربع میل کا ہے ، کوئی ہمیں مربع میل کا ہے ، کوئی پچاس مربع میل کا ہے ، کسی جزیرہ میں ہیں ہزار کی آبادی ہے کسی میں دس ہزار کی آبادی ہے کسی جزیرہ میں پانچ ہزار کی آبادی ہے ، کسی میں دو ہزار کی آبادی ہے ، کسی میں ایک ہزار کی آبادی ہے اور سینکڑوں جزیرے ایسے ہیں جن میں کوئی آبادی نہیں اور جہاں انام اور سیام ان جزائر سے ملتے ہیں وہاں بھی لاکھوں لاکھ مسلمان موجود ہیں۔انڈونیشیا کے مسلمانوں نے اس لڑائی میں جو آزادی کے لئے وہاں لڑی جارہی ہے اپنے متحد ہونے کا بہت اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور یہ ایسا نمونہ ہے جو ہمیں عربی ممالک میں بھی نظر نہیں آتا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کی حکومتیں مصر سے ملنے کو تیار نہیں، شامی حکومت فلسطین حکومت سے متحد ہونے کو تیار نہیں ، یمن کی حکومت نجد سے تعاون کرنے کو تیار نہیں غرض کوئی علاقہ کسی دوسرے علاقے کے ماتحت یا اس سے متحد ہونے کو تیار نہیں لیکن انڈونیشیا کے جزائر نے ایسی اعلیٰ خوبی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے دوسری اسلامی دنیا قاصر رہی ہے۔ان کی ابھی تک آواز ایک ہے ان کی بولی ایک ہے ، مجھے افسوس ہے کہ باقی اسلامی ممالک اتحاد کی خوبی کو محسوس نہیں کرتے ان میں سے ہر ایک کی آواز جداگانہ رنگ رکھتی ہے۔اب اگر چہ عربوں نے بین الاقوامی معاملات میں اتحاد پیدا کیا ہے لیکن اندرونی معاملات میں ابھی تک انشقاق اسی طرح جاری ہے۔انڈونیشیا کے جزائر ہی موجودہ وقت میں ایسے ہیں جن کی آواز ایک ہے اور جو اندرونی اور بیرونی معاملات میں متحد نظر آتے ہیں۔یہ سات کروز آبادی کے پانچ