سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 149
۱۴۹ موجودہ حالات میں خلیفہ صاحب نے مصر اور حجاز مقدس کیلئے اسلامی غیرت کا جو ثبوت دیا ہے۔وہ یقیناً قابل قدر ہے اور انہوں نے اس غیرت کا اظہار کر کے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے۔" زمزم ۱۹۔جولائی ۱۹۴۲ء بحوالہ الفضل ۲۲۔جولائی ۱۹۴۲ء) حضور کا اسلامی درد اور مسلمانوں کی بہتری کا جذبہ اس بیان کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہے۔خدا تعالیٰ نے حضور کی مضطربانہ دعاؤں کو شرف قبولیت عطا فرمایا اور سعودی عرب کو سونے چاندی، میگیر، نکل، تانبا، سیسہ، جست، ایلومینیم گندھک ابرق اور گریفائیٹ کی دولت سے مالا مال فرمایا۔تیل (جسے اس کی اہمیت و قیمت کی وجہ سے مائع سونا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) نے تو سعودی عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ایک اندازے کے مطابق اگر سعودی کنوؤں سے دس لاکھ بیرل روزانہ تیل نکالا جائے تو بھی ایک صدی تک اس کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔نومبر ۱۹۴۳ء میں لبنان نے فرانس سے مکمل آزادی حاصل کرنے کیلئے لبنان کی آزادی پارلیمنٹ میں آئین میں تبدیلی کا ایک بل پیش کیا لیکن فرانس نے آئینی طریق اختیار کرنے کی بجائے جبرو استحصال سے کام لیتے ہوئے تمام وزراء بشمول وزیر اعظم کو گر فتار کر کے کسی نامعلوم جگہ پر پہنچا دیا اور مارشل لاء نافذ کر کے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فرانسیسی فوج نے گشت کرنا شروع کر دیا۔عرب پولیس کی جگہ فوج کام کرنے لگی۔بیروت کے علاوہ ٹریپولی میں بھی نازک صورت پیدا ہو گئی۔مظاہرے ہونے لگے۔فرانسیسی فوج نے لبنان کی مجلس مندوبین کے ۲۰ ارکان کے علاوہ کئی اور ممتاز لیڈروں کو بھی گرفتار کر لیا اور ان اسلامی ممالک کے ساتھ اس ظلم و زیادتی کے متعلق حضور نے فرمایا :۔شام اور لبنان وہ ملک ہیں جو کسی زمانے میں ترکوں کے ماتحت تھے اور ترکوں کی طرف سے انہیں ہر قسم کی وہ آزادی حاصل تھی جو کسی ما تحت قوم کو دی جاتی ہے۔جب گذشتہ جنگ ہوئی تو ان اقوام کو یورپ کی حکومتوں نے کہا کہ ہم تمہیں آزادی دے دیں گے تم اپنے حاکموں کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔چنانچہ یہ قومیں کھڑی ہو گئیں اور انہوں نے اپنے حکام کے ساتھ غداری کی اور ان سے جنگ پر آمادہ ہو گئے اور سمجھا کہ اس کے نتیجہ میں ہم کو آزادی مل جائے گی مگر جب جنگ ختم ہو گئی اور ان کے خون سے عرب اور شام کے میدان رنگے گئے تو انہیں یہ آزادی دی گئی کہ کچھ حصہ پر انگریزوں کو