سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 147
۱۴۷ لڑ پچر شائع کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی ہے۔آج ہم اپنے مدارس میں بخاری اور مسلم وغیرہ جو احادیث پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہیں۔اسلام کی نادر کتابیں مصر میں ہی چھپتی ہیں اور مصری قوم اسلام کیلئے مفید کام کرتی چلی آئی ہے۔اس قوم نے اپنی زبان کو بھلا کر عربی زبان کو اپنا لیا، اپنی نسل کو فراموش کر کے یہ عربوں کا حصہ بن گئی اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔مصر میں عربی زبان عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں اور محمد عربی میں کامذ ہب رائج ہے۔پس مصر کی تکلیف اور تباہی ہر مسلمان کیلئے دکھ کا موجب ہونی چاہئے خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔"مصر کے ساتھ ہی وہ مقدس سر زمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقا کا مبارک وجو د لیٹا ہوا ہے ، جس کی گلیوں میں محمد مصطفی میں دی او لیول کے پائے مبارک پڑا کرتے تھے۔جس کے مقبروں میں آپ کے والڈ و شیدا خدا تعالیٰ کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سو رہے ہیں۔وہ وادی ہے جس میں وہ گھر ہے جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بار منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں۔۔۔یہ مقدس مقام صرف چند سو میل کے فاصلہ پر ہے اور آج کل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں اور ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دیوار میں بھی نہیں اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے مسلمان کا دل لرز جاتا ہے۔" آنحضرت میں یا ای میل کی حفاظت کیلئے صحابہ کرام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔"۔۔۔ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ اس کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کیلئے سامان مہیا کر سکتا ہے مگر ان کی تمنا ان کی آرزو ان کی خواہش یہ تھی کہ اللہ تعالی محمدم ملک کو بچانے کیلئے جو ہتھیار اپنے ہاتھ میں لے وہ ہم ہوں۔انہیں خدا تعالیٰ کے وعدے پر شک نہ تھا، آنحضرت میر کی زبان پر شک نہ تھا بلکہ حرص تھی کہ اس