سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 146 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 146

ابن سعود یورپین اصطلاحات اور بین الاقوامی معاملات سے پوری واقفیت نہیں رکھتے انہوں نے الفاظ میں احتیاط سے کام نہیں لیا اور اس میں انہوں نے عام م مسلمانوں کا طریق اختیار کیا ہے۔مسلمان ہمیشہ دوسرے پر اعتبار کرنے کا عادی ہے حالانکہ معاہدات میں کبھی اعتبار سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ سوچ سمجھ کر اور کامل غور و فکر کے بعد الفاظ تجویز کرنے چاہئیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاہدہ بعض انگریز فرموں سے ہے حکومت سے نہیں اور ممکن ہے جس فرم نے یہ معاہدہ کیا ہے اس کے دل میں بھی دھوکا بازی یا غداری کا کوئی خیال نہ ہو مگر الفاظ ایسے ہیں کہ اگر اس فرم کی کسی وقت بھی نیت بدل جائے تو وہ سلطان ابن سعود کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔مگر یہ سمجھنے کے باوجود ہم نے اس پر شور مچانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ ہم نے خیال کیا کہ اب سلطان کو بد نام کرنے کا کیا فائدہ ؟ اس سے سلطان ابن سعود کی طاقت کمزور ہو گئی تو عرب کی طاقت بھی کمزور ہو جائے گی۔اب ہمارا کام یہ ہے کہ دعاؤں کے ذریعہ سلطان کی مدد کریں اور اسلامی رائے کو ایسا منظم کریں کہ کوئی طاقت سلطان کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی جرات نہ کر الفضل ۳۔ستمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۰) جنگ عظیم ثانی میں جب جرمن افواج فتح پر فتح حاصل کرتی ہوئی مصر کی حدود کے اندر داخل ہو گئیں اور جر من جنرل رومیل کی کامیابیاں افسانوی حیثیت اختیار کر گئیں اور اتحادیوں کی فتح کے متعلق عام شک و شبہ کا اظہار ہونے لگا۔اس وقت میدان جنگ سے دور سیاسی میدان سے الگ تھلگ مذہبی و روحانی امور میں شب و روز مصروف مگر بیدار مغز اولوالعزم امام جماعت احمدیہ حضرت فضل عمر نے مقامات مقدسہ کی عظمت و شان اور ان کی حفاظت کے متعلق ایک پُر شوکت سکے۔" خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :۔اب جنگ ایسے خطر ناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو وہ اسلام کی جو توجیہہ و تفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں مگر اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ ہمارے خدا ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔ان کی اکثریت اسلام کے خدا کیلئے غیرت رکھتی ہے ، ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کیلئے غیرت رکھتی ہے ، اور ان کی اکثریت محمد میل کیلئے غیرت رکھتی ہے ، اسلامی