سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 143
۱۴۳ کے جلال اور ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا خدا اس شخص کو اندھا کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہاتھ اس بد بین آنکھ کو پھوڑنے کیلئے آگے بڑھیں گے ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سے آگے ہو گا۔" آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کہ انگریز بعض عرب رؤسا کو مالی امداد دے کر انہیں اپنے زیر سایہ لانا چاہتے ہیں۔یہ شور جب زیادہ بلند ہو ا تو حکومت ہند کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم عرب رؤسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔مسلمان اس پر خوش ہو گئے کہ چلو خبر کی تردید ہو گئی لیکن میں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض عرب رؤسا کو مالی مدد نہیں دیتی مگر حکومت برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے۔چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو ملا کرتے تھے اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے لارڈ چیمسفورڈ کو لکھا کہ گو لفظی طور پر آپ کا اعلان صحیح ہے مگر حقیقی طور پر صحیح نہیں کیونکہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ابن سعود اور شریف حسین کو اس اس قدر مالی مدد ملتی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کر سکتے ان کا جواب میں مجھے خط ملا کہ واقعہ صحیح ہے مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلایا جائے۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیر اثر لائے۔پس ہم ہمیشہ عرب کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے۔جب ترک عرب پر حاکم تھے تو اس وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا جب شریف حسین حاکم ہو ا تو گو لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی مگر ہم نے کہا اب فتنہ و فساد کو پھیلانا مناسب نہیں۔جس شخص کو خدا نے حاکم بنا دیا ہے اس کی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔تاکہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہو جائے اس کے بعد نجدیوں نے حکومت لے لی تو باوجود اس کے کہ لوگوں نے بہت شور مچایا کہ انہوں نے قبے گرا دیئے اور شعائر کی ہتک کی ہے۔۔۔ہم نے