سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 144
۱۴۴ سلطان ابن سعود کی تائید کی صرف اس لئے کہ مکہ معظمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں حالانکہ وہاں ہمارے آدمیوں کو دکھ دیا گیا۔حج کیلئے احمد ی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا مگر ہم نے اپنے حقوق کیلئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بلند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے کہ ان علاقوں میں فساد ہوں۔مجھے یاد ہے مولانا محمد علی صاحب جب مکہ مکرمہ کی مؤتمر سے واپس آئے تو وہ ابن سعود سے سخت نالاں تھے۔شملہ میں ایک دعوت کے موقع پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر بحث جاری رکھی وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا کہ مولانا آپ کتنے ہی ان کے ظلم بیان کریں جب ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنا دیا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ ہماری کوششیں اب اس امر پر ہونی چاہئیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہو اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہو جائے تا کہ ان مقدس مقامات کے امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔" (فاروق۔ستمبر ۱۹۳۵ء) اس غیر منصفانہ فیصلہ کے متعلق اپنے دکھ اور رنج کا اظہار کرنے سے بھی ایک عرصہ قبل آپ اہل شام پر انگریزوں کی زیادتی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں اس اظہار سے بھی نہیں رک سکتا کہ دمشق میں ان لوگوں پر جو پہلے ہی بے کس اور بے بس تھے یہ بھاری ظلم کیا گیا ہے۔ان لوگوں کی بے بسی اور بے کسی کا یہ حال ہے کہ باوجود اپنے ملک کا آپ مالک ہونے کے دوسروں کے محتاج بلکہ دست نگر ہیں۔میرے نزدیک شامیوں کا حق ہے کہ آزادی حاصل کریں۔ملک ان کا ہے حکمران بھی وہی ہونے چاہئیں ان پر کسی اور کی حکومت نہیں ہونی چاہئے۔یہ ظلم اس لحاظ سے اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ پچھلی جنگ میں اہل شام نے اتحادیوں کی مدد کی اور اس غرض سے مدد کی کہ انہیں اپنے ملک میں حکومت کرنے کی آزادی مل جائے گی۔پھر کتنا ظلم ہے کہ اب ان کو غلام بنایا جاتا ہے۔وہ ملک جو تلوار کے ذریعہ زیر نہ کئے جائیں بلکہ معاہدات کی رو سے سیاست اور علم کا چرچا نہ ہونے کے سبب جن کی تربیت کا ذمہ لیا جائے کیا ان کی یہی حالت ہونی چاہئیے کہ انہیں بالکل غلام بلکہ غلاموں سے بھی بد تر بنانے کی کوشش کی جائے ؟ پس نہ انگریزوں اور نہ کسی اور سلطنت کا حق ہے کہ وہ