سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 133
١٣٣ پیدائش تک کے ادوار ۲۶۔انسانی جسم کی تشریح ۲۷۔صحت کی حالت میں اعضائے انسانی کے فرائض اور وظائف ۲۸ مختلف بیماریاں اور ان کے اسباب علم النباتات ۳۰۔علم الجمادات ۳۱ منطق ۳۲- فلسفه منطق ۳۳- فلسفه ۳۴۔فلسفه فلسفه -۳۵ فلسفه تاریخ ۳۶ طبقات الارض ۳۷۔ارتقائے نسل انسانی ۳۸۔علم اللسان ۳۹ - علم النفس ۴۰ - ارتقائے عالم ۴۱۔کائنات کے مختلف انواع میں امتیازی نشان -۴۲ انسان اور دیگر اشیاء میں فرق ۴۳۔علم البرق ۴۴- کیفیت ماده - " (الفضل ۲۱۔جون ۱۹۶۱ء) قادیان میں جماعتی دفاتر کیلئے باقاعدہ کوئی عمارت نہیں تھی۔ابتدائی ضروریات اور مصروفیات "دار المسیح" کی حد تک ہی محدود تھیں۔تالیف و تصنیف، خطو کتابت ملاقات مهمان نوازی و غیره تمام کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نگرانی میں سر انجام پاتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کو نیل آہستہ آہستہ برگ و بار لانے لگی اور جیسے جیسے کام بڑھتا گیا کار کن اور جگہ کا انتظام ہو تا گیا۔مسجد اقصیٰ قادیان کے قریب ہندوؤں کی ایک بڑی عمارت تھی۔ہماری تاریخ کے ابتدائی دنوں میں اس عمارت کا ذکر اس رنگ میں آتا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں کثرت سے لوگوں کی آمدو رفت کی وجہ سے اس عمارت کے ہندو مالک اظہار ناراضگی کرتے تھے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے علم میں یہ بات لائی گئی تو آپ نے جو ارشاد فرمایا اس سے ظاہر ہو تا تھا کہ یہ عمارت جماعت کے قبضہ میں آجائے گی چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ نہ صرف یہ کہ وہ عمارت جماعت کے قبضہ میں آگئی بلکہ وہاں جماعتی دفاتر قائم ہوئے۔مسجد مبارک کے متصل کچھ پرانے مکانات بھی بعض دفاتر کیلئے استعمال ہوتے رہے۔تحریک جدید کا آغاز ہوا تو قصر خلافت کے قریب ایک چھوٹے سے پرانے مکان میں تحریک جدید کا دفتر شروع ہو گیا۔ذیلی مجالس میں سے صرف مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا دفتر قادیان میں تعمیر ہوا تھا اور ابھی اس دفتر کی تعمیر کا کچھ کام باقی ہی تھا کہ تقسیم برصغیر کی وجہ سے جماعت کا اکثر حصہ ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور پھر حضرت فضل عمر کی اولو العزم قیادت و راہنمائی میں ربوہ کی تعمیر عمل میں آئی جس کا کسی قدر ذکر پچھلے صفحات میں ہو چکا ہے۔قادیان سے ہجرت کے بعد ظلی صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کے دفاتر ر تن باغ کے سامنے جو دھامل بلڈنگ میں قائم ہوئے۔تعلیم الاسلام کالج اسی عمارت کے پہلو میں ایک