سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 96
۹۶ کی ہڈی کا کام دے سکیں گے۔حضور نے پاکستانی پریس کے ان معزز نمائندوں کو نقشہ کی مدد سے اس جگہ کی اہمیت اور نئے شہر کی تعمیر کی سکیم بتانے کے علاوہ اس علاقہ کی سیر بھی کروائی۔پریس کانفرنس میں شامل ہونے والے تمام اخبار نویس اس محیر العقول کار نامہ سے بہت متاثر ہوئے اور اپنے اخبارات میں اسے دوسری تنظیموں بلکہ حکومت کیلئے ایک قابل تقلید نمونہ اور مثالی کارنامہ قرار دیتے ہوئے بڑے اچھے رنگ میں ربوہ کا ذکر کیا مثلا اخبار " احسان " نے ایک مفصل رپورٹ میں لکھا۔لاہور۔۸ نومبر۔جماعت احمدیہ کے امیر مرزا بشیر الدین محمود احمد کی دعوت پر مقامی اخبار نویسوں کی ایک پارٹی جماعت احمدیہ پاکستان کے نئے مرکز ربوہ کو دیکھنے گئی جو لاہور سے کوئی ایک سو میل اور چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلہ پر دریائے چناب کے غربی کنارے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے دامن میں ایک بے آب و گیاہ غیر مزروعہ اور نا قابل آبادی قطعہ زمین پر آباد کیا جا رہا ہے۔زمین کا یہ ٹکڑا جو ایک ہزار چونتیس ایکڑ پر مشتمل ہے اور جسے حکومت سے خرید لیا گیا ہے ان دنوں جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔یہاں ربوہ نام سے امریکی طرز پر ایک جدید ترین شہر زیر تعمیر ہے جس کی لاگت کا ابتدائی اندازہ کوئی پچیس لاکھ روپے کے قریب لگایا گیا ہے جائے وقوع کے لحاظ سے ربوہ لائل پور اور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔اس کے تین طرف تو چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں قدرتی ڈیفنس کے طور پر کھڑی ہیں لیکن جنوب مغربی سمت سے یہ کھلا پڑا ہے اور اس کا سلسلہ دور تک مزروعہ زمین سے ملتا چلا گیا ہے۔ریلوے لائن اور پختہ سڑک اس قطعہ زمین کے پاس سے گذرتی ہیں۔لیکن زمین میں مادہ شور ہونے کی وجہ سے کئی کئی میل تک آبادی کا کہیں نام و نشان نہیں۔صبح نو بجے روانہ ہو کر اخبار نویسوں کا قافلہ کوئی تین گھنٹے میں ربوہ پہنچ گیا جہاں سینکڑوں رضا کار خیمے وغیرہ نصب کرنے میں مصروف تھے۔اخبار نویسوں کے علاوہ اس قافلہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، مرزا بشیر احمد صاحب نواب محمد الدین صاحب چوہدری اسد اللہ خان صاحب شیخ بشیر احمد صاحب مسٹر عبدالرحیم درد صاحب اور چوہدری نصر اللہ خان صاحب (چوہدری اعجاز نصر الله خان صاحب) شامل تھے۔