سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 94 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 94

۹۴ جس حد تک ممکن ہو جلد سے جلد انجام پائیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس کام کے تمام پہلوؤں کے متعلق تفصیلی ہدایات جاری فرمائیں اور ذاتی طور پر جائزہ لیتے رہے کہ کسی کام میں کسی کار کن کی طرف سے سستی نہ ہو۔عارضی عمارتوں کیلئے خام اینٹوں کی ضرورت تھی پانی کی کمی اور مزدور کافی تعداد میں نہ مل سکنے کی وجہ سے اس سلسلہ میں مشکل پیش آرہی تھی۔منتظمین کی طرف سے حضور کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ خام انہیں فوری طور پر چنیوٹ سے حاصل کر لی جائے مگر حضور نے اس تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے فرمایا۔ہر گز نہیں۔میں کوئی عذر نہیں سنوں گا۔جس طرح بھی ہو روزانہ پچیس ہزار اینٹ تیار ہونی چاہئے۔" حضور کی توجہ اور نگرانی کی برکت سے صرف مقررہ تعداد میں ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ اس سے دگنی تعد اد یعنی پچاس ہزار اینٹ بھی روزانہ تیار ہوتی رہی۔زیر تعمیر مرکز کا ذکر اخبارات میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سرگودھا اور فیصل آباد کے عین وسط میں دریائے چناب کے کنارے ایک بنجر بے آب و گیاه کلر زدہ مستطیل قطعہ زمین جس کی آبادی کی کئی کوششیں ناکامی کا منہ دیکھ چکی تھیں اور جہاں روئیدگی اور سبزہ نام کی کوئی چیز نہیں تھی جہاں پینے کا پانی بھی میسر نہیں تھا آہستہ آہستہ پہلے خیموں کی ایک بستی نظر آنے لگی اور پھر وہاں خام اینٹوں کی صاف ستھری اور قرینے و سلیقے سے بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی عمارتوں کی ایک بستی معرض وجود میں آگئی۔حضرت مصلح موعود | کے اس عزم و ہمت کے غیر معمولی نشان کو دنیا سے متعارف کروانے کے لئے۔نومبر ۱۹۴۸ء کو ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں مندرجہ ذیل نامور صحافی شامل ہوئے۔کرنل فیض احمد صاحب فیض (چیف ایڈیٹر پاکستان ٹائمز ، میاں محمد شفیع (چیف رپور نر پاکستان ٹائمز)، مسٹر جمیل الزمان (چیف رپورٹر سول اینڈ ملٹری گزٹ)، مولانا عبدالمجید سالک (مدیر اعلی روزنامه انقلاب) سردار فضلی (چیف رپورٹر روزنامه احسان)، میاں صالح محمد صدیق چیف نیوز ایڈیٹر روزنامہ مغربی پاکستان)، مولانا باری علیگ برٹش انفارمیشن سروس)، چوہدری بشیر احمد (نائب مدیر روزنامه سفینه مسٹر عبد اللہ بٹ (برٹش انفار میشن سروس)، مسٹر عثمان صدیقی ( مینیجر اینڈ چیف رپورٹر سٹار نیوز ایجنسی) ، پروفیسر محمد سرور (مدیر ہفتہ وار آفاق) اور جناب محمد صدیق ثاقب