سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 81 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 81

시 روانہ ہو کر احمد نگر کے بالمقابل سڑک پر اپنی موٹر سے نکل کر نزدیک ہی ایک کنویں کے قریب درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور تمام ہمرا ہی احباب کے حلقہ میں احمد نگر کے چند غیر احمدی معززین سے جو وہاں آگئے تھے مخاطب ہوئے۔بالخصوص وہاں کے نمبردار چوہدری کرم علی صاحب سے (جو فوت ہو چکے ہیں) دریافت فرمایا کہ دریائے چناب میں سیلاب کے پانی کی زد کی حد کہاں تک ہے۔نمبردار نے عرض کیا کہ سیلاب کا پانی تو یہاں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔پھر دریافت فرمایا کہ آیا وہ رقبہ جہاں اب ربوہ آباد ہے سیلاب کی زد میں ہے۔اس پر نمبردار مذکور نے کہا کہ وہاں تو پانی صرف ایسی صورت میں پہنچے گا کہ جب سیلاب کے پانی کی بلندی اس درخت کی جس کے نیچے حضور کھڑے تھے جھکی ہوئی شاخوں کو چھوئے گی۔ان لوگوں کی تالیف قلوب کیلئے تھوڑی دیر اور وہاں گفتگو فرمائی اور پھر سرگودھا کی طرف سفر شروع کیا۔موٹر میں بیٹھے کڑا نہ پہاڑیوں کے دامن میں جو کھلا میدان ہے اس کا جائزہ لیا۔سرگودھا پہنچ کر محترم چوہدری عزیز احمد صاحب سب حج کی کو ٹھی پر جو ان دنوں وہاں تعینات تھے دوپہر کا کھانا تمام ہمراہی احباب سمیت تناول فرمایا۔" (الفضل ۷ جون ۱۹۶۴) حضور نے اس جگہ کو مرکز نو کی تعمیر کیلئے موزوں قرار دیا اور حضور کی ہدایت پر ناظر اعلیٰ صاحب نے ڈپٹی کمشنر جھنگ کو یہ قطعہ زمین خریدنے کی درخواست کی۔11۔جون ۱۹۴۸ء کو حکومت کی طرف سے زمین انجمن کے نام دیئے جانے کی منظوری موصول ہوئی۔اس غیر معمولی تائید و نصرت الہی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔"ہم نے گورنمنٹ سے اس کے خریدنے کی درخواست کی اور اس سے کہا کہ آخر آپ نے ہمیں کوئی جگہ دینی ہی ہے اور کہیں بسانا ہی ہے۔اگر یہ جگہ ہمیں مل جائے تو جتنے احمدی یہاں بس جائیں گے ان کا بوجھ گورنمنٹ پر نہیں پڑے گا۔قادیان کے باشندوں کو اگر کسی اور جگہ آباد کیا جائے تو انہیں بنی بنائی جگہیں دی جائیں گی۔لیکن اگر وہ یہاں بس جائیں تو کروڑوں کی جائیداد بچ جائے گی جو دوسرے مہاجرین کو دی جا سکتی ہے۔قادیان میں دو ہزار سے زائد مکانات تھے جن میں بعض پچاس پچاس ہزار کے تھے اور بعض لاکھ دو لاکھ کے تھے۔لیکن اگر پانچ ہزار روپے فی مکان بھی قیمت لگائی