سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 80 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 80

موقع پر میں نے یہ عرض کیا کہ یہ رقبہ میرا بھی دیکھا ہوا ہے۔ضلع جھنگ کے گذشتہ بندوبست میں میں تحصیل چنیوٹ کا تحصیلدار بندوبست تھا اور اس رقبہ سے کئی دفعہ میرا گذر ہوا تھا۔میں نے عرض کیا کہ یہ قطعہ زمین زراعت کے نا قابل بالکل کلر تھو ہر ہے جہاں صرف ایک بوٹی "لانی" کے جو اونٹوں کا چارہ ہے اور جو خود زمین کے ناقابل زراعت ہونے کا ثبوت ہے۔اس کے علاوہ اور کسی قسم کی سبزی ، درخت وغیرہ کا وہاں نشان تک نہیں۔بعض سرمایہ داروں نے لمبی میعاد کے پٹہ پر گورنمنٹ سے یہ زمین لے کر اس کو آباد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔" (الفضل ۷۔جون ۱۹۶۴ء) اس رپورٹ سے یہ بھی عیاں ہے کہ قدرت نے یہ قطعہ زمین اسی مقصد کیلئے مقدر فرمایا ہوا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس کی آبادی کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔حضرت فضل عمر اس سلسلہ میں آخری فیصلہ کرنے سے قبل بنفس نفیس اس قطعہ زمین کے معائنہ کیلئے تشریف لے گئے۔آپ کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت نواب محمد دین صاحب اور بعض اور بزرگ بھی تھے اس تاریخی سفر کے متعلق راجہ علی محمد صاحب جو اس سفر میں حضور کے ہمراہ تھے تحریر کرتے ہیں۔ر تن باغ لاہور سے صبح سویرے روانہ ہو کر تقریبا دس بجے یہ قافلہ۔۔۔جہاں ربوہ میں اب بسوں کا اڈہ ہے وہاں پہنچا۔وہاں حضور نے اپنی کار سے نکل کر سڑک : کھڑے کھڑے رقبہ کا جائزہ لیا۔بالخصوص سڑک پختہ ریلوے لائن کے درمیان اس رقبہ کے واقعہ ہونے کا اور اس طرح اس کی جائے وقوع پر غور فرمایا۔پھر حضور نے سڑک کے متوازی سامنے کی پہاڑی پر چڑھ کر پہاڑی کے پیچھے زمین کی سطح کو دیکھنے کا خیال کیا اور پہاڑی پر چڑھنا شروع کیا۔لیکن اس کی نصف بلندی تک پہنچ کر فرمایا کہ میں کمزوری محسوس کرتا ہوں اور اوپر نہیں جا سکتا اور نیچے اتر آئے۔مگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور مکرم و محترم مولوی عبدالرحیم صاحب درد جو حضور کے ساتھ اوپر چڑھ رہے تھے چوٹی پر پہنچے اور اگر پہاڑی کے پیچھے جو زمین کی صورت تھی اس کا حضور سے ذکر کیا۔بعد ازاں سڑک پر تھوڑی دور سرگودھا کی طرف سے آگے چل کر سڑک پر پانی پینے کے ہینڈ پمپ سے خود چلو میں پانی لے کر چکھا اور فرمایا کہ پانی تو خاصا اچھا ہے۔وہاں سے