سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 79 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 79

29 احمدی بھی ننکانہ صاحب پر حملہ کر سکتے ہیں۔اس خیال کے ماتحت میں نے قادیان سے آتے ہی آٹھ نو دن کے بعد بعض دوستوں کو ہدایات دے کر ضلع شیخو پورہ بھجوا دیا تھا۔وہاں ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی زمینوں کے متعلق ان کے ایجنٹوں سے بات چیت بھی کر لی گئی اور بعض لوگ زمین دینے پر رضامند بھی ہو گئے تھے۔لیکن جب اس کا گورنمنٹ کے افسران سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی جائیداد فروخت نہ کی جائے۔ہم نے انہیں کہا ہم بھی ریفیوجی ہیں اس لئے کسی غیر کے پاس زمین فروخت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔مگر انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ ایسا کرنے میں غلط فہمی ہو سکتی ہے اس لئے یہ زمین قیمتا نہیں دی جا سکتی۔اسی دوران میں بعض احمدیوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ سکھوں میں ایک طبقہ حد سے زیادہ جوش والا ہے اس لئے بجائے اس کے کہ اس تجویز سے فائدہ ہو ایسے لوگ زیادہ شرارت پر آمادہ ہو جائیں گے۔ایک دوست نے یہ بھی کہا آپ نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی وہ جگہ تو پہاڑیوں کے بیچ میں تھی اور یہ جگہ پہاڑیوں کے بیچ میں نہیں ہے۔میں نے ایک جگہ دیکھی ہے جو آپ کے خواب کے زیادہ مطابق ہے۔چنانچہ پارٹی تیار کی گئی اور میں بھی اس کے ساتھ موٹر میں سوار ہو کر گیا۔وہ جگہ دیکھی واقعہ میں وہ جگہ ایسی ہی تھی صرف فرق یہ تھا کہ میں نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی اس میں سبزہ تھا اور یہاں سبزہ کی ایک پتی بھی نہ تھی۔یہ جگہ اونچی ہے اور نہر کا پانی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔اب حال میں جو سیلاب آیا ہے اس کا پانی بھی اس جگہ سے نیچے ہی رہا ہے۔اور اس جگہ تک نہیں پہنچ سکا۔لیکن ہم نے سمجھا کہ اگر کوشش کی جائے تو شاید یہاں بھی سبزہ ہو سکتا ہے۔" حمد ☆ الفضل ۲۸ - ستمبر ۱۹۴۸ء) مکرم راجہ علی محمد صاحب مرحوم سابق نا ظر بیت المال اس سلسلہ میں لکھتے ہیں۔"جیسا کہ اس وقت مختلف احباب نے اطلاع بہم پہنچائی یا مشورہ دیا۔زمین کے کئی قطعات حضور کے زیر نظر تھے۔ان میں ایک سرزمین ربوہ اور دو سرا کڑانہ کی پہاڑیوں کے دامن میں یہ دونوں سرگودھا کی سڑک پر تھے۔اس ربوہ والے قطعہ کے متعلق ایک حید ربوہ میں سبزہ اور پھل پھول حضرت مصلح موعود کی دعا کی قبولیت کا ایک نشان اور خدا تعالیٰ کے غیر معمولی فضل و احسان کا مظہر ہے۔