سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 78 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 78

LA تعمیر مرکز نو۔ربوہ آنحضرت میں اور ہم نے امام مہدی اور ان کے ماننے والوں کی یہ پہچان بیان فرمائی تھی کہ اَلا وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وہ ایک جماعت ہوگی۔ہر صاحب نم پر روشن ہے کہ جماعت کیلئے ایک واجب الاطاعت امام اور ایک مرکز کا ہونا لازمی ہے۔جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے اس فضل پر نازاں ہے کہ وہ ایک واجب الاطاعت امام اور مرکز کے عظیم خدائی انعامات سے سرفراز ہے۔دائمی مرکز قادیان کے مخصوص حالات کی وجہ سے پاکستان میں ایک نئے مرکز کی ضرورت تھی۔موزوں جگہ کی تلاش حضور اپنی غیر معمولی مصروفیات ، مشکلات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس اہم ضرورت کی طرف برابر متوجہ تھے۔چنانچہ آپ نے قادیان سے جدائی کے صدمہ اور ہجرت کی وجہ سے نئے نئے اور بڑے بڑے مسائل اور مشکلات کے باوجود اس اہم ضرورت سے صرف نظر نہ کیا اور احباب جماعت کو نئے مرکز کیلئے مناسب جگہ کی تلاش کی ہدایت فرمائی۔اس سلسلہ میں حضور کے مندرجہ ذیل بیان سے پتہ چلتا ہے که سرزمین ربوہ نہ صرف یہ کہ جماعتی ضروریات کے لحاظ سے موزوں اور بہتر سمجھی گئی بلکہ یہ جگنہ حضور کے ایک خواب کی رو سے تعمیر مرکز کیلئے خدا کی منشاء اور مشیت کے مطابق تھی۔حضور فرماتے ہیں۔ہم سات آٹھ مہینے سے کوشش کر رہے تھے کہ ایک جگہ لی جائے جہاں قادیان کی اجڑی ہوئی آبادی کو بسایا جائے۔یہ تجویز ستمبر ۱۹۴۷ء میں ہی کر لی گئی تھی اور اس خواب کی بناء پر جو میں نے ۱۹۴۱ء میں دیکھی تھی کہ میں ایک جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں جماعت کو پھر جمع کیا جائے اور منتظم کیا جائے۔ہم نے یہاں پہنچتے ہی ضلع شیخوپورہ میں کوشش کی۔پہلے ہماری یہ تجویز تھی کہ نکانہ صاحب کے پاس کوئی جگہ لے لی جائے تا سکھوں کو یہ احساس رہے کہ اگر انہوں نے قادیان پر جو احمدیوں کا مرکز ہے حملہ کیا تو