سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 72
ولولہ و جوش سے پھر کام شروع کر دیا گیا۔آپ فرماتے ہیں۔" آج ہر احمدی سمجھ لے کہ احمدیت پر ایک نیا دور آیا ہے۔" اسی طرح آپ نے زندگی کے ہر لمحہ کو خدمت دین کیلئے صرف کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔" اگر چہ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور ایک مومن کو یہی امید رکھنی چاہئے کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور وہی ہمارا مرکز ہو گا لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ عملاً ہمارا مرکز وہی ہو گا جہاں ہمیں خدا تعالیٰ رکھنا چاہتا ہے۔پس ہمیں اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کاموں کو وسیع کرنا چاہتے اور اس بات کو نظر انداز کر کے کہ ہم نے قادیان واپس جانا ہے اپنا کام کرتے چلے جانا چاہئے تا یہ پتہ لگے کہ ہمیں کام سے غرض ہے ہمیں قادیان سے کوئی غرض نہیں۔ہمیں ربوہ سے کوئی غرض نہیں۔اگر ہمیں خدا تعالیٰ لے جائے تو ہم وہاں چلے جائیں گے ورنہ نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے نوکر ہیں کسی جگہ کے نوکر نہیں۔اگر ہم کسی جگہ سے محبت کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے پس مومن کو اپنے کاموں میں ست نہیں ہونا چاہئے۔الفضل فضل عمر نمبر ۶۶ - الفضل الفضل فضل عمر نمبر ۶۶ - الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۶۶ء صفحہ ۸) اپنی ایک مشہور پرانی نظم کے ایک شعر کے حوالے سے حضور فرماتے ہیں۔قادیان سے نکلنا ایک ایسا اہم واقعہ ہے کہ اگر اس سلسلے میں ہم سوچنا اور غور کرنا شروع کر دیں تو ہمارے کاموں میں رخنہ پیدا ہو نا شروع ہو جائے گا لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایک نہایت ہی تلخ واقعہ ہے نہ معلوم کوئی خدائی فرشتہ تھا جس نے مجھ سے انگلستان جاتے ہوئے یہ شعر لکھوایا کہ۔یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں میں خدا کے فرشتوں کے ذریعہ سے اپنی طرف سے اور ساری جماعت کی طرف سے قادیاں والوں کو وعلیکم السلام کہتا ہوں۔در حقیقت وہ لوگ خوش قسمت ہیں۔آنے والی نسلیں ہمیشہ عزت کی نگاہ سے اور احترام و محبت کے ساتھ ان کے نام لیا کریں گی اور ہزاروں لوگوں کو یہ حسرت ہوا کرے گی کہ کاش ہمارے آباء کو یہ خدمت کرنے کی