سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 57 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 57

ه جائے کہ ہماری جماعت مذہبا حکومت کی وفادار جماعت ہے تو وہ ایسا انتظام نہ کریں کہ ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی جو ہمارے ارد گرد رہتے ہیں حفاظت نہ کی جائے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے بعض لوگ حکام پر یہ اثر ڈال رہے ہیں کہ مسلمان جو ہندوستان میں ہیں ہندوستان سے دشمنی رکھتے ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ادھر اعلان ہوا اور ادھر فساد شروع ہو گیا ورنہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ مسلمان مسٹر جناح کو اپنا سیاسی لیڈر تسلیم کرنے کے باوجود ان کے اس مشورہ کے خلاف جاتے کہ اب جو مسلمان ہندوستان میں رہ گئے ہیں انہیں ہندوستان کا وفادار رہنا چاہئے۔غرض ساری غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ یکدم فسادات شروع ہو گئے اور صوبائی حکام اور ہندوستان کے حکام پر حقیقت نہیں کھلی۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی جگہ جانا چاہئے جہاں سے دہلی و شملہ سے تعلقات آسانی سے قائم کئے جا سکیں اور ہندوستان کے وزراء اور مشرقی پنجاب کے وزراء پر اچھی طرح سب معاملہ کھولا جا سکے۔اگر ایسا ہو گیا تو وہ زور سے ان فسادات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح لاہور میں سکھ لیڈروں سے بھی بات چیت ہو سکتی ہے جہاں وہ ضرور تا آتے جاتے رہتے ہیں اور اس سے بھی فساد دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔شاید اللہ تعالیٰ میری کوششوں میں برکت ڈالے اور یہ شور و شر جو اس وقت پیدا ہو رہا ہے دور ہو جائے۔میں نے اس امر کے مد نظر آپ لوگوں سے پوچھا تھا کہ ایسے وقت میں اگر میرا جانا عارضی طور پر زیادہ مفید ہو تو اس کا فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے یا میں نے اگر آپ نے کرنا ہے تو پھر آپ لوگ حکم دیں تو میں اسے مانوں گا لیکن میں ذمہ داری سے سبکدوش ہوں گا اور اگر فیصلہ میرے اختیار میں ہے تو پھر آپ کو حق نہ ہو گا کہ چون و چرا کریں۔اس پر آپ سب لوگوں نے لکھا کہ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔سو میں نے چند دن کے لئے اپنی سکیم کے مطابق کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ لوگ دعائیں کرتے رہیں اور حوصلہ نہ ہاریں۔دیکھو مسیح کے حواری کتنے کمزور تھے مگر مسیح انہیں چھوڑ کر کشمیر کی طرف چلا گیا اور مسیحیوں پر اس قدر مصائب آئے کہ تم پر ان دنوں میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں آئے لیکن انہوں نے ہمت اور بشاشت سے