سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 58 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 58

۸۵ ان کو برداشت کیا۔ان کی جدائی تو دائی تھی مگر تمہاری جدائی تو عارضی ہے اور خود تمہارے اور سلسلہ کے کام کیلئے ہے۔مبارک وہ جو بد ظنی سے بچتا ہے اور ایمان پر سے اس کا قدم لڑکھڑاتا نہیں۔وہی جو آخر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کا انعام پاتا ہے۔پس صبر کرو اور اپنی عمر کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے وفادار رہو اور ثابت قدمی اور نرمی اور عقل اور سوجھ بوجھ اور اتحاد و اطاعت کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ دنیا عش عش کر اُٹھے۔جو تم میں سے مصائب سے بھاگے گا وہ یقینا دو سروں کیلئے ٹھوکر کا موجب ہو گا اور خدا تعالیٰ کی لعنت کا مستحق۔تم نے نشان پر نشان دیکھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا منور جلوہ دیکھا ہے اور تمہارا اول دوسروں سے زیادہ بہادر ہونا چاہئے۔میرے سب لڑکے اور داماد اور دونوں بھائی اور بھتیجے قادیان میں ہی رہیں گے اور میں اپنی غیر حاضری کے ایام میں اپنے عزیز مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنا قائمقام ضلع گورداسپور اور قادیان کیلئے مقرر کرتا ہوں۔ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کرو اور ان کے ہر حکم پر اس طرح قربانی کرو جس طرح محمد رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔مَنْ أَطَاعَ امِيْرِى فَقَدْ اَطَاعَنِى وَ مَنْ عَلَى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ میری اطاعت کرے گا اور جو میری اطاعت کرے گا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کرے گا اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کرے گا وہ رسول کریم ملی ایم کی اطاعت کرے گا اور وہی مومن کہلا سکتا ہے دوسرا نہیں۔اے عزیزو! احمدیت کی آزمائش کا وقت اب آئے گا اور اب معلوم ہو گا کہ سچا مومن کون ہے۔پس اپنے ایمانوں کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ پہلی قوموں کی گردنیں تمہارے سامنے جھک جائیں اور آئندہ نسلیں تم پر فخر کریں۔شاید مجھے تنظیم کی غرض سے کچھ اور آدمی قادیان سے باہر بھجوانے پڑیں مگر وہ میرے خاندان میں سے نہ ہوں گے بلکہ علماء سے ہوں گے۔اس سے پہلے بھی میں کچھ علماء باہر بھجوا چکا ہوں۔تم ان پر بد ظنی نہ کرو۔وہ بھی تمہاری طرح اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں لیکن خلیفہ وقت کا حکم انہیں مجبور کر کے لے گیا۔پس وہ ثواب میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں اور قربانی