سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 49
۴۹ حد تک ملٹری کے حملے صاف کروا چکے تھے۔حملہ آوروں کی بہادری کا یہ حال تھا کہ سات گھنٹہ کے حملہ کے بعد جوابی حملہ کا بگل بجایا گیا تو پانچ منٹ کے اندر پولیس اور حملہ آور جتھے بھاگ کر میدان خالی کر گئے۔ان حملوں میں دو سو سے زیادہ آدمی مارے گئے لیکن ان کی لاشیں جماعت کو اٹھانے نہیں دی گئیں تا ان کی تعداد کا بھی علم نہ ہو سکے اور ان کی شناخت بھی نہ ہو سکے۔بغیر جنازہ کے اور بغیر اسلامی احکام کی ادائیگی کے یہ لوگ ظالم مشرقی پنجاب کی پولیس کے ہاتھوں مختلف گڑھوں میں دبا دیئے گئے تاکہ دنیا کو اس ظلم کا اندازہ نہ ہو سکے جو اس دن قادیان میں مشرقی پنجاب کی پولیس نے کیا تھا۔مشرقی پنجاب کے بالا حکام سے جو ہمیں اطلاع ملی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی حکام نے مرکزی حکام کو صرف یہ اطلاع دی کہ سیکھ جتھوں نے احمدی محلوں پر حملہ کیا۔تھیں آدمی سکھ جتھوں کے مارے گئے اور تمہیں آدمی احمدیوں کے مارے گئے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دو سو سے زیادہ ( آدمی) قادیان میں۔۔۔۔۔۔مارے گئے جن میں کچھ غیر احمدی بھی شامل تھے جیسا کہ آگے بتایا جائے گا اور سکھ بھی تمہیں سے زیادہ مارے گئے کیونکہ گو اس غلطی کی وجہ سے جو اوپر بیان ہو چکی ہے منتظم مقابلہ نہیں کیا۔لیکن مختلف آدمی بھی حفاظتی چوکیوں پر تھے ، انہوں نے اچھا مقابلہ کیا اور بہت سے حملہ آوروں کو مارا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جب باہر سے پولیس اور سکھ حملہ کر رہے تھے اور ملٹری بھی ان کے ساتھ شامل تھی (گو کہا جاتا ہے کہ ملٹری کے اکثر سپاہیوں نے ہوا میں فائر کئے ہیں) اس وقت کچھ پولیس کے سپاہی محلوں کے اندر گھس گئے اور انہوں نے احمدیوں کو مجبور کیا کہ یہ کرفیو کا وقت ہے اپنے گھروں میں گھس جائیں۔چنانچہ ایک احمدی گریجوایٹ مکرم مرزا احمد شفیع) جو اپنے دروازے کے آگے کھڑا تھا اسے پولیس مین نے کہا کہ تم دروازے کے باہر کیوں کھڑے ہو۔جب اس نے کہا یہ میرا گھر ہے، میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہوں تو اسے شوٹ کر دیا گیا اور جب وہ تڑپ رہا تھا تو سپاہی نے سنگین سے اس پر حملہ کر دیا اور تڑپتے ہوئے جسم پر سنگین مار مار کر اسے مار دیا۔اس کے بعد بہت سے محلوں کو لوٹ لیا گیا اور اب ان کے اندر کسی ٹوٹے پھوٹے سامان یا بے قیمت چیزوں کے سوا کچھ باقی نہیں۔مرکزی حصہ پر جو حملہ ہوا اس میں ایک شاندار واقعہ ہوا ہے جو قرونِ اولیٰ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔جب حملہ کرتے ہوئے پولیس اور سکھ شہر کے اندر