سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 50
گھس آئے اور شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر خالی کرانا چاہا اور وہ لوگ مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ گلی کے پار ایک گھر میں چالیس عورتیں جمع تھیں وہ وہیں رہ گئیں ہیں۔بعض افسران کو نکلوانے کیلئے گلی کے سرے پر جو مکان تھا وہاں پہنچے اور ان کے نکالنے کیلئے دو نو جوانوں کو بھیجا۔یہ نوجوان جس وقت گلی پار کرنے لگے تو سامنے کی چھتوں سے پولیس نے ان پر بے تحاشا گولیاں چلانی شروع کیں اور وہ لوگ واپس گھر میں آنے پر مجبور ہو گئے۔تب لکڑی کے تختے منگوا کر گلی کے مشرقی اور مغربی مکانوں کی دیواروں پر رکھ کر عورتوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔جو نوجوان اس کام کے لئے گئے ان میں ایک غلام محمد صاحب ولد مستری غلام قادر صاحب سیالکوٹ تھے اور دوسرے عبد الحق نام قادیان کے تھے جو احمدیت کی طرف مائل تو تھے مگر ابھی جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔یہ دونوں نوجوان برستی ہوئی گولیوں میں سے تختے پر سے کودتے ہوئے اس مکان میں چلے گئے جہاں چالیس عورتیں محصور تھیں۔انہوں نے ایک ایک عورت کو کندھے پر اٹھا کر تختے پر ڈالنا شروع کیا اور مشرقی مکان والوں نے انہیں کھینچ کھینچ کر اپنی طرف لانا شروع کیا۔جب وہ اپنے خیال میں سب عورتوں کو نکال چکے اور خود واپس آگئے تو معلوم ہوا کہ انتالیس عور تیں آئی ہیں اور ایک بڑھیا عورت جو گولیوں سے ڈر کے مارے ایک کونے میں چھپی ہوئی تھی رہ گئی ہے۔اب ارد گرد کی چھتوں پر پولیس جتھوں کا ہجوم زیادہ ہو چکا تھا۔گولیاں بارش کی طرح گر رہی تھیں اور بظاہر اس مکان میں واپس جانا ناممکن تھا۔مگر میاں غلام محمد صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب سیالکوٹی نے کہا جس طرح بھی ہو میں واپس جاؤں گا اور اس عورت کو بچا کر لاؤں گا اور وہ برستی ہوئی گولیوں میں جو نہ صرف درمیانی راستہ پر برسائی جارہی تھیں بلکہ اس گھر پر بھی برس رہی تھیں جہاں احمدی کھڑے ہوئے بچاؤ کی کوشش کر رہے تھے۔کود کر اس تختے پر چڑھ گئے جو دونوں مکانوں کے درمیان پل کے طور پر رکھا گیا تھا۔جب وہ دوسرے مکان میں کو درہے تھے تو رائفل کی گولی ان کے پیٹ میں لگی اور وہ مکان کے اندر گر پڑے۔مگر اس حالت میں بھی اس بہادر نوجوان نے اپنی تکلیف کی پروانہ کی اور اس بڑھیا کو تلاش کر کے تختے پر چڑھانے کی کوشش کی۔لیکن شدید زخموں کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا اور دو تین کوششوں کے بعد