سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 48
" دوسرے دن ایک سب انسپکٹر پولیس جو چھٹی پر قادیان گیا ہوا تھا کسی ذریعہ سے جس کا ظاہر کرنا مناسب نہیں لاہور پہنچا اور اس نے بہت سی تفاصیل بیان کیں۔اس کے بعد ایک ملٹری گاڑی جو قادیان کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجی گئی تھی میں بعض اور لوگ تھے جنہوں نے اور تفصیل بیان کی۔ان حالات سے معلوم ہوا کہ حملہ سے پہلے کرفیو لگا دیا گیا تھا۔پہلے قادیان کی پرانی آبادی پر جس میں احمد یہ جماعت کے مرکزی دفاتر واقع ہیں، حملہ کیا گیا۔اس حصہ کے لوگ اس حملہ کا مقابلہ کرنے لگے۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ باہر کے محلوں پر بھی تھوڑی دیر بعد حملہ کر دیا گیا ہے۔یہ لوگ سات گھنٹہ تک لڑتے رہے اور اس خیال میں رہے کہ یہ حملہ صرف مرکزی مقام پر ہے باہر کے مقام محفوظ ہیں۔چونکہ جماعت احمدیہ کا یہ فیصلہ تھا کہ ہم نے حملہ نہیں کرنا بلکہ صرف دفاع کرنا ہے اس لئے تمام محلوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب تک ایک خاص اشارہ نہ کیا جائے کسی محلہ کو باقاعدہ لڑائی کی اجازت نہیں۔جب افسر یہ تسلی کرلیں کہ حملہ اتنا لمبا ہو گیا ہے کہ اب کوئی شخص یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ احمد یہ جماعت منظم طور پر مقابلہ کرے گی۔اس فیصلہ میں ایک کو تا ہی رہ گئی وہ یہ کہ اس بات کو نہیں سوچا گیا کہ اگر پولیس بیرونی شہر اور اندرونی شہر کے تعلقات کو کاٹ دے تو ایک دو سرے کے حالات کا علم نہ ہو سکے گا۔پس ان حالات میں ہر محلہ کا الگ کمانڈر ہو جانا چاہئے جو ضرورت کے وقت آزادانہ کارروائی کر سکے۔یہ غلطی اس وجہ سے ہوئی کہ قادیان کے لوگ فوجی تجربہ نہیں رکھتے وہ تو مبلغ ،مدرس ، پروفیسر، تاجر اور زمیندار ہیں۔ہر قسم کے فوجی نقطہ نگاہ پر حاوی ہونا ان کے لئے مشکل ہے۔بہر حال یہ غلطی ہوئی اور باہر کے محلوں نے اس بات کا انتظار کیا کہ جب ہم کو وہ اشارہ ملے گا تب ہم مقابلہ کریں گے لیکن اس وقت اتفاق سے سب ذمہ دار کار کن مرکزی دفاتر میں تھے اور باہر کے محلوں میں کوئی ذمہ دار افسر نہیں تھا۔اور مرکز کے لوگ غلطی سے یہ سمجھ رہے تھے کہ حملہ صرف مرکزی مقام پر ہے باہر کے محلوں پر نہیں اور باہر کے محلے یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے حالات کا علم مرکزی محلہ کو ہو گا کسی مصلحت کی وجہ سے انہوں نے ہمیں مقابلہ کرنے کا اشارہ نہیں کیا۔سات گھنٹہ کی لڑائی کے بعد جب مرکزی محلہ پر زور بڑھا تو مرکزی محلہ کی حفاظت کے لئے معین اشارہ کیا گیا مگر اس وقت بہت سے بیرونی محلوں کو پولیس اور ایک