سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 47
دلوں میں بھی پیدا ہونا قوم کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔مغربی پنجاب کے مسلمانوں کو جلدی منظم ہو جانا چاہئے اور جلد اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔اگر آج تمام مسلمان منظم ہو جائیں اور اگر آج بھی حکومت اور رعایا کے در میان مضبوط تعاون پیدا ہو جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمان اس ابتلاء عظیم میں سے گذرنے کے بعد بھی بچ سکتا ہے اور ترقی کی طرف اس کا قدم بڑھ سکتا ہے۔" الفضل ۹۔اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۱۔۲) اسی سلسلہ میں اپنے ایک دو سرے مضمون میں حضور نے تحریر فرمایا۔اکتوبر کی پہلی تاریخ کو جب گورداسپور کی ملٹری نے قادیان میں کنوائے جانے کی ممانعت کر دی تو میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اب قادیان پر ظلم توڑے جائیں گے۔لاہور میں کئی دوستوں کو میں نے یہ کہہ دیا تھا اور مغربی پنجاب کے بعض حکام کو بھی اپنے اس خیال کی اطلاع دے دی تھی۔اس خطرہ کے مد نظر ہم نے کئی ذرائع سے مشرقی پنجاب کے حکام سے فون کر کے حالات معلوم کئے لیکن ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ قادیان میں بالکل خیریت ہے اور احمدی اپنے محلوں میں آرام سے بس رہے ہیں۔صرف سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے کنوائے کو روکا گیا۔لیکن جب اس بات پر غور کیا جاتا ہے کہ لاہور ایو یکیوایشن (EVACUATION) کمانڈرز کی طرف سے مشرقی پنجاب کے ملٹری حکام کو بعض کنوائز CONVOYS) کی اطلاع دی گئی اور انہیں کہا گیا کہ اگر قادیان کی طرف کنوائے جانے میں روک ہے تو آپ ہم کو بتا دیں۔میجر چمنی سے بھی پوچھا گیا اور برگیڈیئر پر بچ پائے متعینہ گورداسپور سے بھی پوچھا گیا تو ان سب نے اطلاع دی کہ قادیان جانے میں کوئی روک نہیں۔باوجود اس کے جب کنوائے گئے تو ان کو بٹالہ اور گورداسپور سے واپس کر دیا گیا۔یہ واقعات پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ان واقعات نے میرے شبہات کو اور بھی قوی کر دیا۔آخر ایک دن ایک فون جو قادیان سے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے نام کیا گیا تھا اتفاقا سیالکوٹ میں بھی سنا گیا۔معلوم ہوا کہ قادیان پر دو دن سے حملہ ہو رہا ہے اور بے انتہاء ظلم توڑے جا رہے ہیں۔پولیس حملہ آوروں کے آگے آگے چلتی ہے اور گولیاں مار مار کر احمدیوں کا صفایا کر رہی ہے۔تب اصل حقیقت معلوم ہوئی۔