سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 44 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 44

سمسم بات کا اظہار کر دیں۔افسر مجاز نے جواب دیا کہ ہم ایسا ہر گز نہیں چاہتے۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ قادیان میں رہیں۔جب اسے کہا گیا کہ وہ کہاں رہیں۔پولیس اور ملٹری کی مدد سے سکھوں نے تو سب محلوں کے احمدیوں کو زبردستی نکال دیا ہے اور سب اسباب لوٹ لیا ہے۔آپ ہمارے مکان خالی کرا دیں تو ہم رہنے کے لئے تیار ہیں تو اس پر افسر مجاز بالکل خاموش ہو گیا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔در حقیقت وہ افسر خود تو دیانتدارہی تھا لیکن وہ وہی کچھ رٹ لگا رہا تھا جو ا سے اوپر سے سکھایا گیا تھا۔جب اس پر اپنے دعوئی کا بودا ہونا ثابت ہو گیا تو خاموشی کے سوا اس نے کوئی چارہ نہ دیکھا۔شاید دل ہی دل میں وہ ان افسروں کو گالیاں دیتا ہو گا جنہوں نے اسے یہ خلاف عقل بات سکھائی تھی۔" " قادیان کے تازہ حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لکڑی (ایندھن) تقریباً ختم ہے ، گندم بھی ختم ہو رہی ہے ، گورنمنٹ کی طرف سے غذا مہیا کرنے کا کوئی انتظام نہیں ، اب تک ایک چھٹانک آٹا بھی گورنمنٹ نے مہیا نہیں کیا، عورتوں اور بچوں کے نکالنے کا جو انتظام تھا اس میں دیدہ دانستہ روکیں ڈالی جارہی ہیں۔بارش ہوئے کوئی آج نو دن ہو چکے ہیں۔بارش کے بعد قادیان سے دو قافلے آچکے ہیں۔اسی طرح قریباً روزانہ ہندوستانی یونین کے ٹرکس فوج یا پولیس سے متعلق قادیان آتے جاتے ہیں۔اور اس کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔چار تاریخ کو پولیس کا ایک ٹرک قادیان سے چل کر دا بگه تک آیا۔تین تاریخ کو پاکستان کے ان فوجی افسروں کے سامنے جو گورداسپور کی فوج سے قادیان جانے کی اجازت لینے گئے تھے ایک فوجی افسر نے آکر میجر سے پوچھا کہ وہ ٹرک جو قادیان جانا تھا کس وقت جائے گا۔پاکستانی افسروں کی موجودگی میں اس سوال کو سن کر میجر گھبرا گیا اور اس کو اشارہ سے کہا چلا جا۔اور پھر پاکستانی افسروں سے کہا اس شخص کو غلطی لگی ہے قادیان کوئی ٹرک نہیں جاسکتا۔چارہی تاریخ کو پاکستان کے جو ٹرک قادیان گئے تھے اور ان کو بٹالہ میں روکا گیا تھا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دو ملٹری کے ٹرک قادیان سے بٹالہ آئے۔سب سے کھلا ثبوت اس بات کے غلط ہونے کا تو یہ ہے کہ انہی تاریخوں میں جن میں کہا جاتا ہے کہ قادیان جانے والی سڑک خراب ہے پرانی ملٹری قادیان سے باہر آئی ہے اور نئی ملٹری قادیان گئی ہے۔کیا یہ تبدیلی ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔پس یہ بہانہ بالکل غلط ہے اور اصل