سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 43
۴۳ میں بھی برکت پیدا کر دے گا، آپ کے کاموں میں بھی برکت پیدا کر دے گا اور اسلام کی فتح کو قریب سے قریب ترلے آئے گا۔یہ چار دیواریں ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم (الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۴۷ء) ہے۔" اب بر صغیر کی تاریخ کا وہ موڑ آگیا ہے جہاں تہذیب و متانت، شرافت و سنجیدگی اور اخلاق و قانون کی قدروں کو یکسر پامال کرتے ہوئے ظلم و بربریت اور سفاکی و خونریزی کا وہ شیطانی کھیل کھیلا گیا جس پر انسانیت کا سر شرم کے مارے ہمیشہ جھکا رہے گا۔ہندوؤں نے محمود غزنوی کے ہاتھوں ہونے والی شکست سے لیکر مغل حکمرانوں کی حکمرانی تک کا بدلہ چکانے کیلئے خود کھل کر سامنے آنے کی بجائے سکھوں کی غیر مآل اندیش قیادت کے ذریعہ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کا یدھ (لڑائی) شروع کر دیا۔قادیان اور نواح میں جو مظالم ڈھائے گئے وہ ہماری تاریخ میں محفوظ ہیں اس سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ”قادیان کا خونی روزنامچہ " کے نام سے الفضل میں ایک سلسلہ مضامین تحریر فرمایا۔اسی طرح خواجہ غلام نبی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل نے بھی ان رونگٹے کھڑے کر دینے والے مظالم کا آنکھوں دیکھا حال تحریر فرمایا۔طوالت کے خوف سے ذیل میں صرف حضرت فضل عمر کے اس سلسلہ میں بیان فرمودہ بعض ارشادات ہی درج کئے جاتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی ہر قیمت پر اپنے مرکز میں رہنا چاہتے تھے مگر ہندوستان کی حکومت نے باوجود اس امر کی ذمہ داری لینے کے کہ وہ اس علاقہ میں مظالم نہیں ہونے دیں گے اور کسی شہری کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کریں گے عملاً ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ کوئی قانون کا احترام کرنے والا شہری وہاں آباد نہ رہ سکے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔قادیان اور مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں میں فرق ہے۔قادیان کے باشندے قادیان میں رہنا چاہتے ہیں لیکن مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں کے باشندوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مشرقی پنجاب میں نہ رہیں۔ہندوستان یونین کی گور نمنٹ بار بار کہہ چکی ہے کہ ہم کسی کو نکالتے نہیں لیکن قادیان کے واقعات اس کے اس دعوی کی کامل طور پر تردید کرتے ہیں۔حال ہی میں قادیان کے کچھ ذمہ دار افسر گورنمنٹ افسروں سے ملے اور باتوں باتوں میں ان سے کہا کہ آپ لوگ اپنی پالیسی ہم پر واضح کر دیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم قادیان چھوڑ دیں تو پھر صفائی کے ساتھ اس