سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 520
۵۲۰ تو ایسے شخص کی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا جائے۔لیکن جماعت سے نکالنے کا مفہوم احمدیت سے نکالنا نہیں ہو تا۔احمدیت اعتقاد اور ایمان سے تعلق رکھتی ہے۔یہ علیحدہ چیز ہے۔ہو سکتا ہے ایک شخص کو ہم جماعت سے نکالیں اور وہ احمدیت پر قائم ہو۔یہ ایک غلطی ہے جو بعض لوگوں کو لگ جاتی ہے۔پہلے بھی میں نے بیان کیا تھا کہ اس قسم کا اخراج احمدیت سے اخراج نہیں ہوتا۔ہم اس قسم کی کفر بازی کا سلسلہ جماعت احمدیہ میں جاری کرنا نہیں چاہتے۔خلفاء تو کیا در اصل انبیاء کو بھی اس قسم کا اختیار نہیں ہوتا۔۔۔در حقیقت اسلام سے خدا بھی نہیں نکالتا بندہ ہی ہے جو خود اپنے آپ کو اس سے نکال لیتا ہے۔جب ایک بندہ اپنے منہ سے کہتا ہے کہ میں اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہوں تو خدا تعالیٰ بھی یہی کہتا ہے۔بہت اچھا۔پس جماعت سے اخراج کا جو بھی اعلان ہو۔وہ احمدیت سے اخراج کا مفہوم نہیں رکھتا۔میں یہ تشریح کر دیتا ہوں تالوگ دھوکے میں نہ رہیں۔اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ جس غرض کے لئے خلافت کو قائم کیا گیا ہے اور جو عظیم الشان مقصد اس کا رکھا گیا ہے کہ لوگ ایک نظام کے ماتحت رہیں چونکہ وہ شخص اس میں اشتراک عمل کے لئے تیار نہیں ہوتا اس لئے وہ ہمارے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔ہم اسے جماعت سے علیحدہ کر دیتے ہیں مگر احمدیت سے نہیں نکالتے بلکہ نکال سکتے ہی نہیں۔ہمارا احمدیت سے نکالنے میں کسی قسم کا اختیار نہیں۔" (الفضل ۲۶۔مارچ ۱۹۳۱ء) ، کوه و قار مخالف حالات سے عہدہ بر آہونے کے لئے دنیوی رہنما بالعموم جن طریقوں سے کام لیتے ہیں ان میں سازش ، چالا کی جوڑ توڑ، رشوت خوشامد اور ایسے ہی دوسرے خلاف شرع اور غیر اخلاقی حربے شامل ہوتے ہیں۔جن کی تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔تاہم حضرت مصلح موعود نے کبھی کسی مخالفت یا کبھی کسی مخالف کے مقابلہ میں کوئی غیر اخلاقی اور غیر شریفانہ طریق عمل اختیار نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ مخالفانہ حرکات میں تمام اخلاقی و قانونی پابندیوں کو پھلانگ کر آپ پر رکیک الزامات لگانے والے بھی خود اپنے عمل سے یہ شہادت دیتے تھے کہ وہ اپنے زبانی دعاوی و الزامات کے بر عکس حضور کی عظمت و بزرگی کے قائل ہیں ایسے ہی ایک مخالف کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔” جب مستریوں نے میرے خلاف بہت شور مچایا تو میں نے مستری فضل کریم اور