سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 514 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 514

۵۱۴ سکتی ہے۔پچاس ہزار یا لاکھ دولاکھ آدمی ساری دنیا کے مقابلہ میں کیا کر سکتے ہیں پھر مال کے لحاظ سے انہیں دیکھو تو ان کے پاس مال کہاں ہیں۔طاقت کے لحاظ سے انہیں دیکھو تو ان کے پاس طاقت کہاں ہے۔پس میں دنیا کی فتح کا آدمیوں کے ذریعہ اندازہ نہیں کرتا۔آدمی میرا ساتھ نہیں دے سکتے بلکہ ایمان اور اخلاص میرا ساتھ دے سکتے ہیں اور جب کسی انسان کے ساتھ ایمان اور اخلاص شامل ہو جائے تو ساری دنیا کے خزانے مل کر بھی اس کے مقابلہ میں بیچ ہو جاتے ہیں۔" (الفضل ۱۹۔اگست ۱۹۳۶ء) دنیوی ذرائع دنیوی سامان و اسلحہ سے دنیوی اور ملکی فتوحات کی زیادہ اہمیت نہیں بلکہ ایمان و اخلاص کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی فتح جس میں نفس انسانی شیطان پر غالب آجائے اور نفس مطمئنہ نیکی کے راستوں پر رواں دواں ہو تو وہی اصل اور حقیقی فتح اور خوشی و مسرت کی وجہ ہے حضور اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔” ہم خدا تعالی کے فضل سے ضرور ترقی کریں گے اور جب جوانی کو پہنچیں گے تو ہمارے اس بچپن کو دیکھنے والوں کو یہ یقین ہی نہیں آئے گا کہ یہ وہی جماعت ہے۔مگر ہماری جماعت کو یہ سبق کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ قومیں جب تعداد میں بڑھتی ہیں تو اخلاص میں گرنے لگتی ہیں اور جب زمین پر پھیلتی ہیں تو آسمان پر سکڑنے لگتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں ہو سکتا جو زمین میں پھیلتا مگر آسمان میں سکڑتا ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم جتنا زمین میں پھیلیں اس سے زیادہ آسمان میں پھیلتے جائیں اور ہمار اخد ا ہم سے خوش ہو۔" الفضل ۹ - مارچ ۱۹۴۰ء) فتوحات اور کامیابیوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بعض امکانی خرابیوں اور نقائص سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنی عارفانہ بصیرت سے بڑے انداری رنگ میں جماعت کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ابھی ہم نے ترقی کرنی ہے۔اس سلسلہ کو مٹانے کی بہتوں نے کوشش کی اور ابھی کچھ اور کوشش کرنے والے پیدا ہوں گے مگر وہ سارے کے سارے تھک جائیں گے اور اس سلسلہ کو نقصان پہنچانے کی بجائے اس کی عزت اور ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔جس طرح پہاڑ پر چڑھتے وقت پہلے چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں آتی ہیں پھر اس سے بڑی