سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 513
۵۱۳ خدائی جماعتیں ابتداء میں اسی طرح کمزوری کی حالت میں ہوتی ہیں جس طرح بڑے بڑے سایہ دار درخت ابتداء میں ایسی معمولی کمزور کونپل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جنہیں آسانی سے تو ڑا مسلا اور ختم کیا جا سکتا ہے۔ظاہر بین لوگ تو ابتدائی حالت کو کمزور دیکھ کر پہلو تہی سے کام لیتے بلکه مخالفت و استهزاء سے کام لیتے ہیں مگر دور اندیش معاملہ فہم بیج کو دیکھ کر اس کی ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں سے جو اس کے اندر قدرت نے ودیعت کر رکھی ہوتی ہیں استفادہ کرنے کیلئے کماحقہ غور و پرداخت کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جماعت کی ابتدائی حالت اور آہستہ آہستہ پیدا ہونے والی روحانی و جسمانی تبدیلی کی عظمت و شان بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔جس طرح آج بنک آف انگلینڈ میں ذرہ سی کمزوری پیدا ہونے سے حکومتیں بدل جاتی ہیں وزارتیں تبدیل ہو جاتی ہیں ، ایکینج میں تغیر ہو جاتا ہے ایک وقت آئے گا که اسی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ تغیرات ہوں گے جب سلسلہ احمدیہ کے بیت المال میں کسی قسم کا تغیر ہو گا۔بنک آف انگلینڈ کا اثر تو صرف ایک ملک پر ہے لیکن یہ دنیا کی ساری حکومتوں پر اثر انداز ہو گا اور اس وقت یہاں کے کارکنوں کا دنیوی معیار بھی اس قدر بلند ہو گا کہ حکومتوں کی وزارتوں کی ان کے سامنے کچھ حقیقت نہیں ہو گی۔یہ چیزیں ایک ایسے مستقبل کو پیش کر رہی ہیں جسے مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے احباب کی خدمات کی قیمت کا اندازہ کرنا چاہئے۔دراصل ان کی خدمات کی قیمت وہ چند روپے نہیں جو بطور مشاہرہ دیئے جاتے ہیں بلکہ جماعت کا آئندہ شاندار مستقبل ہے اور اس کا اندازه خدا تعالیٰ ہی لگا سکتا ہے۔بندہ نہیں لگا سکتا اور جب یہ وقت آئے گا اس وقت ان کی خدمات کا اندازہ ہو سکے گا اور ان میں سے ہر ایک کام کرنے والا خواہ وہ چپراسی ہو یا ناظر الاماشاء اللہ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں حصہ لے رہا ہے۔(الفضل ۲۲ - مئی ۱۹۳۲ء) ایمان و اخلاص کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے بلند روحانی نظام کے عظیم نتائج پر پختہ یقین د ایمان کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔" میں آدمیوں کو نہیں دیکھ رہا بلکہ خدا کو دیکھ رہا ہوں میں ایسا بے وقوف نہیں کہ سمجھوں اس وقت جو لوگ میرے سامنے بیٹھے ہیں ان کے ذریعہ میں دنیا کو فتح کر سکتا ہوں یا جماعت میں اس وقت جتنے آدمی شامل ہیں ان کے ذریعہ ساری دنیا فتح کی جا