سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 512 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 512

۵۱۲ نظام سلسلہ کا جہاں تک تعلق ہے کوئی بڑا نہیں اور کوئی چھوٹا نہیں۔دارالصحت کے آدمی کیوں سفارشیں لے کر نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم غریب ہیں ہماری بات کون سنے گا اور جو آتے ہیں وہ یہی سمجھ کر آتے ہیں کہ ہمیں ایک عزت اور رسوخ حاصل ہے اور ہم بڑے آدمی ہیں لیکن میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ نظام سلسلہ میں ان کی بھی اتنی ہی عزت ہے۔جتنی دار الصحت کے رہنے والوں کی۔(دار الصحت قادیان کا ایک محلہ جہاں ان لوگوں کی رہائش تھی جنہیں عام طور پر اچھوت یا پنچ سمجھا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود کی ہدایت و نگرانی میں ان لوگوں کی اصلاح کی بھر پور کوشش کی گئی اور ان میں سے بہت سے افراد اسلامی اخوت و مساوات کی نعمت سے مالا مال ہوئے۔ناقل ) اور جو اس سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ آج بھی گیا اور کل بھی اچھی طرح سن لو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد اور پوتے یا داماد سب کی جہاں تک نظام کا تعلق ہے ان کی ویسی ہی حیثیت ہے جیسی ایک ادنیٰ خادم کی اور جو اس سے زیادہ سمجھتا ہے اسے ارتداد کفر اور یا پھر خدا تعالیٰ کے عذاب کے لئے تیار ہو جانا چاہئے اور جو ناظروں میں سے سفارش سنتا ہے وہ بھی تیار ہو جائے کہ یا تو اسے ٹھو کر لگے گی اور یا پھر وہ عذاب میں مبتلا ہو گا۔ناظریا جسے کوئی اور عہدہ ملے اس کے کان اس معاملہ میں بہرے ہونے چاہئیں اور کسی کی بات کی اسے کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ جب کوئی اس کے پاس ایسی سفارش لے کر آئے اسے کہنا چاہئے کہ نکل جاؤ یہاں سے۔ee الفضل ۵ اگست ۱۹۳۸ء) اس سلسلہ میں اسلامی اخلاق و آداب کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے صدر انجمن احمدیہ کے سربراہ اور انتظامی لحاظ سے سب سے بڑے عہدیدار کو خطاب کرتے ہوئے نصیحت فرمائی۔" آپ کو اور دیگر ناظروں اور عہدیداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جب کوئی شخص ملنے یا کام کے لئے آئے ہر کارکن کا فرض ہے کہ کھڑا ہو کر ا سے ملے۔خواہ کام والا چوہڑا ہی کیوں نہ ہو۔اس کی خلاف ورزی کرنے والا سزا کا مستوجب سمجھا جائے گا۔نیز سب ناظروں اور نائب نا ظروں کا فرض ہو گا کہ وہ جب بازاروں گلیوں سے گزریں تو حتی الوسع سلام میں تقدم کریں۔" (الفضل ۶۔ستمبر ۱۹۳۴ء)