سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 511 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 511

۵۱۱ حضور نے جس امکانی غلطی کے ارتکاب کا ذکر فرمایا ہے اس کی وجہ سے بھی خلیفہ کی اطاعت سے انحراف کی اجازت نہیں ہو سکتی بلکہ اس غلطی کی اصلاح کے لئے مومنانہ طریق کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔تم خود نیک بنو اور دعاؤں کے ذریعہ نہ کہ فتنہ انگیزی کے ذریعہ جو غلطی اور نقص معلوم ہو اس کی اصلاح چاہو " (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء) اسی سلسلہ میں آپ کا ارشاد ہے۔بیرونی مخالفت کو چھوڑ دو وہ خود بخود مٹ جائے گی تم اندرونی مخالفت کو مٹانے کی طرف توجہ کرو۔وہ اندرونی مخالفت جس کا موجود رہنا خدا تعالیٰ کے فضلوں سے جماعت کو محروم کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔(الفضل ۵- اگست ۱۹۴۳ء) خلیفہ وقت کی انشراح صدر سے پوری پوری اطاعت کے ساتھ خلیفہ کے مقرر کردہ امراء اور نمائندگان کی مکمل اطاعت بھی جماعتی ترقی و استحکام کے لئے ضروری ہے۔اس بنیادی اصول کو "" بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔سلسلہ جن کو نمائندہ بنا کر بھیجے مقامی جماعت کے وہ لوگ جن کی آمد نیاں زیادہ ہوں وہ اُن کو ملانوں کی سی حیثیت دیدیں اور وہ ماتحت کی حیثیت میں رہیں غلط بات ہے۔اسے ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔جو ہمار انمائندہ ہو کر جائے گا وہی افسر ہو گا دوسرا خواہ لاکھ روپے کماتا ہو وہ اس کا ماتحت ہو گا۔بہر حال سلسلہ کا نمائندہ دنیوی دولت مندوں سے زیادہ معزز ہے اور مقامی لوگوں کو اس کا ادب و احترام کرنا ہو گا اگر وہ نہیں کریں گے تو فتنہ کا موجب ہوں گے اور اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔یہ ہم نہیں کہتے کہ ہمارا نمائندہ غلطی نہیں کر سکتا اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نمائندے کی پرسش نہیں ہوگی وہ غلطی بھی کر سکتا ہے اور پرسش بھی ہو گی اور اس کے مجرم کے مطابق اسے سزادی جائے گی لیکن سب کچھ آئین کے مطابق ہو گا۔افراد کو کوئی حق نہیں کہ اپنا فیصلہ کر کے حکومت جتانا چاہیں۔اسلام نا واجب حکومت کے خلاف ہے اور وہ نشوز کے بھی الفضل ۲۶۔مارچ ۱۹۴۹ء) خلاف ہے۔ہے۔۔۔۔۔ce نظام سلسلہ کو مضبوط کرنے کے لئے مذکورہ بالا ضروری ہدایت کے ساتھ ساتھ حضور نے اسلامی تو ازن و اعتدال اور مساوات کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا۔