سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 42
۴۲ کے نقصان کی تلافی کرتے اور اس کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے تو دشمن کبھی بھی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکتا مگر افسوس کہ وہ اپنی اصلاح کی طرف سے غافل بیٹھے ہیں۔بعض مسلمان ایسے ہیں جن پر کلی طور پر خوف کی حالت طاری ہے اور وہ امید کے راستہ سے بھٹک چکے ہیں۔وہ لوگ کانگریس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہیں اس ڈر سے کہ اگر کانگریس ہم سے ناراض ہو گئی تو خدا جانے ہم پر کون سی آفت ٹوٹ پڑے گی۔۔۔۔اور دوسرا طبقہ ایسا ہے جو غلط امیدیں لگائے بیٹھا ہے حالا نکہ مومن کے لئے اللہ تعالی نے جو راستہ تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر بیک وقت خوف و رجا کی حالت طاری رہے۔ایک طرف اس کے دل میں دشمن کی طرف سے یہ خدشہ ہے کہ کب وہ اچانک اس پر حملہ کر دیتا ہے اور وہ اس کے لئے تدبیریں سوچتا ر ہے دوسری طرف وہ اپنی طرف سے تمام تدبیریں کر چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کا منتظر ہو جائے۔" (الفضل ۱۷۔جون کے ۱۹۴ء) اس عظیم انقلاب کے لئے جماعت کی ذہنی تیاری کے ساتھ ساتھ عملی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے ہوئے تقسیم برصغیر سے قبل قادیان کے آخری جلسہ سالانہ میں حضور فرماتے ہیں۔" نماز با جماعت کی پابندی سوائے کسی خاص مجبوری کے یہاں تک کہ اگر گھر میں بھی فرض نماز پڑھی جائے تو اپنے بیوی بچوں کو شامل کر کے جماعت کرالی جائے یا اگر بچے نہ ہوں تو بیوی کو ہی اپنے ساتھ کھڑا کر کے نماز باجماعت ادا کی جائے۔دوسرے سچائی پر قیام۔ایسی سچائی کہ دشمن بھی اسے دیکھ کر حیران رہ جائے۔تیسرے محنت کی عادت۔ایسی محنت کہ بہانہ سازی اور عذر تراشی کی روح ہماری جماعت میں سے بالکل مٹ جائے اور جس کے سپرد کوئی کام کیا جائے وہ اس کام کو پوری تندہی سے سرانجام دے یا اس کام میں فنا ہو جائے۔چوتھے عورتوں کی اصلاح۔ہر جگہ لجنہ اماء اللہ کا قیام اور عورتوں میں دینی تعلیم پھیلانے کی کوشش۔یہ چار نصیحتیں آپ لوگوں کو کرنے کے بعد میں دعا کے ساتھ آپ کو رخصت کرتا ہوں۔اگر آپ لوگ ان باتوں پر عمل کریں گے تو پھر خد اتعالیٰ آپ لوگوں کی تبلیغ