سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 460
۴۶۰ حضرت فضل عمر کا منظوم کلام سوانح فضل عمر جلد اول میں حضرت مصلح موعود کے منظوم کلام کے چند منتخب اشعار پیش کئے گئے تھے۔حضور زندگی بھر اس خداداد ملکہ سے کام لیتے ہوئے جماعت کی تربیت و تلقین کیلئے اردو، عربی اور فارسی میں اشعار کہتے رہے۔آپ کی شاعری سادگی، بے ساختگی، روانی اور مقصدیت کا ایک شاندار مرقع ہے۔کوئی شعر تکلف سے نہیں کہا گیا۔کسی شعر میں لفاظی اور بناوٹ نہیں ہے۔ہر شعر میں کوئی پیغام ہے۔اکثر اشعار میں کسی آیت کی تشریح یا کسی حدیث کا مضمون بیان ہوا ہے۔ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ کسی جگہ بھی ادبی لحاظ سے کوئی جھول یا بے وزنی یا فنی سقم بھی نہیں ہے۔آپ کے اشعار کا مجموعہ "کلام محمود" کے عنوان سے مختلف ایجنسیوں اور ناشروں نے اتنی دفعہ چھاپا ہے کہ یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ اس کے کتنے ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔اس کلام کی اثر پذیری اور افادیت کا اس امر سے بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کے اشعار ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود جماعت کے افراد میں آج بھی اسی طرح مقبول و معروف ہیں جیسے آپ کی زندگی میں تھے۔آپ کے چار ہزار سے زیادہ اشعار میں سے چند اشعار درج ذیل ہیں۔ان اشعار کے مطالعہ سے یقینا ہر قاری کو خواہش پیدا ہو گی کہ وہ ایک بار پھر آپ کے مجموعہ کلام کا مطالعہ کرے اور عرفان و وجدان کی ناقابل بیان کیفیت سے سرشار ہو۔ہے زمین پر سر مرا لیکن وہی مسجود ہے آنکھ سے اوجھل ہے گو دل میں وہی موجود ہے جب تلک تدبیر پنجه کش نہ ہو تقدیر سے آرزو بے فائدہ ہے التجا بے سود ہے و بے کاری اکٹھے ہو نہیں سکتے عشق عرصه سعی محبان تا ابد محدود ہے