سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 451
۴۵۱ مگر اس نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا اسے کان دیئے گئے مگر اس نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا اسے ناک دیا گیا مگر اس نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اسے چھونے والا جسم دیا گیا مگر اس نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا، خدا کی محبت کی شیرینی اس کے سامنے پیش کی گئی مگر یہ بد بخت دنیا کا منظل کھاتا رہا مگر اس شیرینی سے اس نے منہ پھیر لیا مگر اس کا خدا اس سے پھر بھی مایوس نہیں ہے۔دیکھو وہ کس شان سے اپنے آخری کلام میں فرماتا ہے کہ انسانوں نے میرے نبیوں کا انکار کیا لیکن ان کے انکار نے مجھے نبی بھیجنے سے باز نہیں رکھا۔میں اب بھی نبی بھیجتا ہوں اور بھیجتا رہوں گاوہ ماننے سے انکار کرتے جائیں میں بلانے سے نہیں ہٹوں گا اور آخر ان کو کھینچ کر ہی لاؤں گا کیونکہ میں نے ان کو اپنی عبودیت کیلئے پیدا کیا ہے اور میری جنت کا گھر اپنے مکین کے بغیر ویران پڑا ہے خواہ وہ براہ راست آکر اس گھر کو آباد کریں یا دو زخ کے ہسپتال میں سے گزر کر آئیں مگر بہر حال انہیں میرے ہی پاس آنا ہو گا اور میں انہیں اپنے پاس لا کر رکھے بغیر نہیں رہوں گا۔یہ ہے ہمارا محبت کرنے والا خدا۔ابراہیم نے بڑی نرم دلی دکھائی مگر ابراہیم کے نرم دل کو پیدا کرنے والا بھی ہمارا خدا ہی تھا۔پس تمام رحم اسی سے ہے اور تمام خوبیاں اسی کی طرف سے ہیں۔کوئی حسن نہیں ہے جو اس کی طرف سے نہ آتا ہو۔سب نیکی اسی سے ہے اور سب نیکی اسی کی طرف جاتی ہے۔وہ ایک ہے اور باقی سب ایک افسانہ ہے اور کوئی افسانہ بغیر ایک مرکزی نقطہ کے قائم نہیں رہتا۔پس جب تک ہمارا افسانہ اس نقطۂ مرکزی سے وابستہ ہے وہ ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ ہے جب وہ اس سے جدا ہو جائے وہ ایک خیالی افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں جس کے لئے کوئی دوام نہیں۔پس کوشش کرو کہ تمہاری زندگیاں ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ نہیں جس طرح ابراہیم کی زندگی ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ بن گئی اور اپنے آپ کو خدا سے دور کر کے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے اپنی زندگیوں کو صرف کر کے ایک بے معنی اور لغو و جو د مت بناؤ۔کیونکہ دائمی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور وہ چیز جو آئی اور ختم ہو گئی محض ایک حیوانی زندگی کا مظاہرہ ہے۔جس طرح کتے کے مرنے سے دنیا میں کوئی تغیر نہیں ہو تا اسی طرح اس انسان کے مرنے سے بھی کوئی تغیر نہیں ہو تا جس کی زندگی ابراہیم علیہ السلام کی طرح خدا کے نور کے گرد پروانه وار چکر نہیں لگا رہی ہوتی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس عید