سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 443
۴۴۳ ش ابراہیم کی خوبیوں سے جاہل انسان یہ خیال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید ابراہیم نَعُوذُ بِاللہ دیوانہ تھا شاید وہ انسانی جذبات سے عاری تھا، شاید بنی نوع انسان میں وہ سب سے زیادہ شقی القلب تھا کہ اس چیز کی قربانی کے لئے آمادہ ہو گیا جس چیز کی قربانی کے لئے ایک جاہل اور اجڈ انسان بھی تیار نہیں ہوتا ایسے ہی لوگوں کے شک کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ اِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمُ أَوَّاهُ مُّنيب (ہود: ۷۶ ) ابراہیم تو بہت ہی دانا بڑا ہی نرم دل اور خدا تعالیٰ کا عشق رکھنے والا انسان تھا۔یعنی ایک ذرہ سی دکھ درد کی بات دیکھ کر اس کے دل کو ٹھیس لگ جاتی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو اور اس کے منہ سے آہیں نکلنے لگ جاتی تھیں اور وہ تھیں اور وہ تکلیف سے بے تاب ہو جاتا تھا۔" جب لوط کی قوم پر عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے وہ فرشتے جو اس عذاب کی تکمیل کے لئے ارسال فرمائے خواہ وہ انسان تھے یا حقیقی ملائکہ تھے۔میں اس موقعہ پر اس بحث میں نہیں پڑتا وہ ابراہیم ہی کے پاس آئے اور ان کو بتایا کہ اس اس طرح لوط کی قوم پر عذاب آنے والا ہے۔اس وقت ابراہیم کے قلب کی جو حالت ہوئی اور ان کافروں کے مارے جانے کی خبر پر جو دکھ ان کو پہنچا۔قرآن کریم میں اور بائیبل میں اس کا ذکر موجود ہے۔شاید وہ مائیں بھی اس طرح بے تاب نہ ہوں گی جن کے بچے اس عذاب میں تباہ ہوئے جس طرح ابراہیم ان کی موت کی خبر سن کر بے تاب ہوا اور وہ لوگ جو اس کے ہم مذہب اور بھائی۔ایک نبی کو دکھ دے رہے تھے اور ہر روز ا سے ایڈا میں پہنچا رہے تھے جب ان کی تباہی کی خبر ابراہیم کو سنائی گئی تو وہ خوش نہیں ہوا اس نے بے پرواہی بھی ظاہر نہیں کی وہ گھبرا کر اٹھا اور اس نے اپنے خدا کے سامنے رو رو کر التجا شروع کی کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! کیا تو اس شہر کو ہلاک کر دے گا جب کہ اس میں تیرے نیک بندے بھی موجو ہیں اور اگر ہزاروں بد ہیں تو سینکڑوں نیک بھی ہوں گے۔تب خدا نے ابراہیم کے رحم اور اس کے دکھ کو دیکھتے ہوئے فرمایا۔اے ابراہیم میں تیری خاطر اگر سینکڑوں نیک بندے وہاں ہوں گے تو اس شہر کو بچالوں گا۔تب ابراہیم نے سمجھا کہ شاید اس شہر میں سینکڑوں نیک بند نے موجود نہیں ہیں اور اس نے کہا۔اے خدا کیا اگر ایک سو نیک بندہ ہو گا تو تو اس کو تباہ ہونے دے گا۔تب خدا