سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 434
ہے اور قومیں اس حکم پر عمل کرنے میں سب سے زیادہ کمزوری دکھایا کرتی ہیں۔بیسیوں احمدی اس وقت قادیان میں ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ نظام کی طرف سے فلاں سختی کی جاتی ہے۔نظام کی طرف سے فلاں سختی کی جاتی ہے جس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم رابِطُوا پر عمل کرنا چھوڑ دیں اور ہمیں قادیان میں اور بعض دوسرے گاؤں میں جو روحانی غلبہ حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے۔پس شیطان ہمیشہ ایسی آوازیں نکالتا رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ رَابِطُوا پر عمل کرنا چھوڑ دیا جائے مگر جب تک ہماری جماعت کے لوگ مرابطہ کو قائم رکھیں گے ، جب تک وہ یہ سمجھتے رہیں گے کہ اگر مرابطہ کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے تو یا تو وہ شیطان کی آواز ہے یا ہمارے کسی ایسے بھائی کی ہے جس پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے یعنی یا تو ایسی شکایت کرنے والا منافق ہے اور جھوٹے طور پر احمدی بنا ہوا ہے۔یا ہے تو سچا احمدی مگر بے وقوف ہے اور جب تک ہماری جماعت اس قسم کے اعتراضات کے باوجو د دلیر اور نڈر ہو کر مرابطہ کا کام جاری رکھے گی اس وقت تک ہماری جماعت کو برابر فتوحات حاصل ہوتی رہیں گی۔مگر جس دن ہماری جماعت کے دوستوں میں یہ کمزوری پیدا ہو گئی کہ لوگوں کے اعتراضات سے ڈر کر انہوں نے مرابطہ کا کام کرنا ترک کر دیا تو یہ ان کے اس بات پر دستخط ہوں گے کہ ہم اب دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے قابل نہیں رہے ہمارا تختہ الٹ دیا جائے اور کسی اور قوم کو ہماری جگہ لایا جائے۔لیکن اگر تم را بِطُوا پر عمل کرتے رہو گے تو یقینا تم ہمیشہ کامیاب رہو گے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ تم اس پر عمل کر سکو گے یا نہیں کیونکہ آج تک دنیا کی کسی قوم نے اس پر ہمیشہ کے لئے عمل نہیں کیا۔ایک لمبے عرصہ کے بعد تمام قومیں ست ہو جاتی رہی ہیں مگر ہم تو ابھی ابھر رہے ہیں ہمارے لئے ست ہونے کا ابھی کو نسا وقت ہے۔اگر دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے سینکڑوں سال بعد ہم میں سستی پیدا ہو تب بھی ہم صرف پہلی قوموں کے ساتھ مشابہہ ہونگے۔ہاں دنیا پر کامل غلبہ کے بعد اگر ہزاروں ہزار سال تک ہم مرابطہ کی ذمہ داری کو ادا کرتے رہیں اور دشمن کے حملوں سے ہر وقت چوکس اور ہوشیار رہیں تو پھر ہم ایسی قوم بنیں گے جس کی مثال روئے زمین پر نہیں مل سکے گی۔کوئی قوم تاریخ میں سے ایسی نظر نہیں آتی جس نے ہزاروں سال مرابطہ کیا ہو۔بعض جماعتیں تو ابتدائی چند سالوں میں ہی مرابطہ کے فرض کو بھول کر تباہ ہو گئیں اور