سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 417 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 417

حضرت فضل عمر کی تصانیف حضرت مصلح موعود کی چند ابتدائی کتب اور ابتدائی ایام کے منظوم کلام کا ذکر سوانح فضل عمر کی پہلی جلدوں میں ہو چکا ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے ان علمی و روحانی خزانوں کی ضرورت و اہمیت اور احباب جماعت کی خواہش و اصرار کے احترام میں حضور کی کتب انوار العلوم اور علوم و معارف کے بکھرے ہوئے روحانی خزائن " خطبات محمود " کے نام سے شائع کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔اس سلسلہ کی بعض کتب ہمارے قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں۔اس وجہ سے اس تالیف میں حضور کی تصانیف و تقاریر الگ پیش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔یہاں یہ اعتراف بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی کتب کا خلاصہ و تعارف پیش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔آپ کی تصانیف میں علوم و معارف کا اتنا ہجوم ہے کہ اس کا اپنے اپنے ظرف کے مطابق کسی قدر اندازہ انتہائی مفید و موثر کتب کو پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔یہ روحانی ورثہ جو قرآن کریم کی ایسی تشریح و تفسیر ہے جس سے خاتم الکتب کی ارفع و اعلیٰ شان ظاہر ہوتی ہے۔جس سے صاحب لولاک کے بے مثال مقام کی توضیح و تبیین ہوتی ہے اتنا متنوع ہے کہ انہیں پڑھنے کے بعد یہی شعور و احساس حاصل ہوتا ہے کہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کا بار بار بالالتزام مطالعہ کیا جاتا رہے۔تفسیر قرآن تو آپ کا مرغوب و پسندیدہ موضوع تھا۔صاحب جوامع الکلم کے ارشادات کی حکمت و فلسفہ بیان کئے بغیر تو کوئی بھی سنجیدہ موضوع مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ان معارف کے پهلو به پهلو علم تمدن علم معاشیات، علم سیاست علم مناظره، علم تاریخ و فلسفه تاریخ علم نفسیات ، علم زراعت علم صنعت و حرفت علم تہذیب و اخلاق اور دوسرے مفید علوم آپ کی تصانیف و تقاریر کی پہچان ہیں۔اس جگہ یہ بیان کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک ایسے گوشہ نشین مصنف ہی نہ تھے جو ہمہ وقت مطالعہ میں مصروف کتابوں میں مگن اور اپنی تصانیف کے متعلق تحقیق اور غور و فکر