سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 401 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 401

سمجھا اور مجھے افسوس ہے کہ صدر انجمن احمدیہ قادیان نے بھی اب تک اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھا۔وہ صرف ایک گاؤں کی پنچائت کی حیثیت اپنے آپ کو دیتے ہیں اور ایک ملک کا بوجھ اٹھانے والے اور ملک کی آزادی کا بیڑہ اٹھانے والے لیڈروں کی حیثیت اپنے آپ کو نہیں دیتے۔ایک پیاسے کو پانی پلانا ثواب کا موجب ہے لیکن ایک گمراہ کو ہدایت دینا تمہارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔نہ صد رانجمن احمدیہ قادیان نے نہ تم نے اس بارہ میں کوئی مؤثر قدم اٹھایا ہے۔" سب سے پہلی چیز تو یہ تھی کہ امن کے قیام کے بعد قادیان کے جلسہ میں ہزاروں ہزار احمدی آتا مگر آپ لوگ تو اب بھی اسی طرح آرہے ہیں جس طرح کہ خطرہ کے وقت میں آتے تھے وہ وقت گذر چکا ملک میں خدا کے فضل سے امن ہو گیا اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ سال میں کم سے کم ایک دفعہ تو قادیان آئیں اور یہاں آکر ان امور پر غور کریں جو آپ لوگوں کی بہتری کے لئے ضروری ہیں اور جو آپ کی ترقی کا موجب ہو سکتے ہیں۔پس جب آپ لوگ واپس جائیں تو ہر احمدی کے کان میں یہ بات ڈالیں کہ وہ آئندہ جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان چلنے کی کوشش کریں اور دوران سال میں بھی اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ زور سے قادیان آتے رہیں جیسا کہ تقسیم سے پہلے آتے تھے۔" دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو اردو انگریزی، ہندی گورمکھی اور گجراتی پریس قائم کرنے چاہئیں ہندی تو ہندوستان کی حکومتی زبان ہو گئی ہے اور گور لکھی گویا پنجاب کی ایک رنگ میں حکومتی زبان ہے اور اردو ملک کی غیر سیاسی ملکی زبان ہے۔انگریزی جانے والے اب تک بھی اس کثرت سے اس ملک میں پائے جاتے ہیں کہ جن علاقوں میں کسی اور زبان میں تبلیغ نہیں کی جا سکتی ان میں انگریزی کام دیتی ہے لیکن اب تک اردو کا پریس بھی جاری نہیں ہوا کجا یہ کہ اسے ترقی دے کر بڑھایا جائے پھر مبلغین کا سوال ہے میں متواتر کئی سال سے صد را انجمن احمدیہ کو لکھ رہا ہوں مگر اب تک مبلغین پیدا کرنے کی طرف ہر گز پوری توجہ نہیں ہوئی۔ہندوستان میں کم سے کم ہمارے دس بارہ علماء موجود ہیں میں نے کہا تھا کہ ہر عالم کے ساتھ دو دو لڑ کے لگاؤ وہ چھ سات سال میں ان کو عالم بنا کر نکالے اس طرح دس بارہ سال میں تمہارے پاس سینکڑوں علماء ہو