سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 394 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 394

۳۹۴ تعالی نے قادیان کی چھوٹی سی بستی کو بڑھا کر ایک سعی و عمل کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بنانے کی توفیق بخشی وہ بھی انسان تھے اور آپ بھی انسان ہیں آپ اپنے آپ کو افراد کی حقیقت میں دیکھنا چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةٌ (النحل : (۱۲۱) ابراہیم ایک امت تھا۔جو لوگ خدا تعالیٰ پر نظر رکھتے ہوئے اس کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو فرد سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو امت سمجھتا ہے اور ان میں سے بعض شخص تو اپنے آپ کو دنیا سمجھتے ہیں۔آپ لوگ بھی اور وہ دوسرے دوست بھی جو باہر سے اس وقت قادیان میں تشریف لا سکے ہوں وہ بھی آج سے اپنا نقطہ نگاہ بدل دیں۔آج سے ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو امت سمجھنے لگ جائے۔وہ یہ سمجھ لے کہ جس طرح آم کی گٹھلی میں سے ایک بڑا درخت پیدا ہو جاتا ہے، جس طرح بڑ کے چھوٹے سے بیچ میں سے سینکڑوں آدمیوں کو سایہ دینے والا بڑا پیدا ہو جاتا ہے ، اسی طرح وہ امت بن کر رہے گا۔وہ ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں اپنی نسلیں پھیلا دے گا۔وہ خاموش قربانی کی جگہ اب اصلاح کے لئے اپنی قربانی کو پیش کرے گا۔ہندوستان اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے اندر پھر سے انسانیت کو قائم کیا جائے۔پھر سے صلح اور آشتی کو قائم کیا جائے پھر سے خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پیدا کی جائے اور یہ کام سوائے آپ لوگوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔عزم صمیم کے ساتھ اٹھیں ، طوفان کا ساجوش لے کر اٹھیں اور ہندوستان پر چھا جائیں جس کا نتیجہ ضرور یہ نکلے گا کہ وہ لوگ جو آج احمدیت کو بغض اور کینہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک دشمن کی حیثیت میں دیکھتے ہیں وہ اور ان کی نسلیں آپ لوگوں کے ہاتھ چومیں گی۔آپ لوگوں کے لئے برکتیں مانگیں گی اور دعائیں دیں گی کہ آپ لوگ اس بد قسمت ملک کو امن دینے والے اور صلح اور آشتی کی طرف لانے والے ثابت ہوئے۔احمدیت ایک نور ہے احمدیت صلح کا پیغام ہے احمدیت امن کی آواز ہے تم اس نور سے دنیا کو منور کرو۔تم اس پیغام کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔تم اس آواز کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں بلند کرو۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔" (مکتوبات اصحاب احمد جلد اول صفحه ۴۸ تا ۵۵ - اگست ۱۹۵۲ء از ملک صلاح الدین صاحب) خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت قادیان نے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بہت کامیابیاں