سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 393 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 393

۳۹۳ یہ کوئی بڑا کام نہیں۔ان چٹھیوں میں ایمان کو ابھارنے یا زندگی کو قائم رکھنے ، ہمت سے کام لینے اور خدا تعالیٰ کے ان بے انتہا فضلوں میں حصہ لینے کی دعوت ہو جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے وعدہ کیا گیا تھا۔طرح طرح سے اور بار بار جماعتوں کو ہلایا جائے جگایا جائے اور نہ صرف ہلایا اور جگایا جائے بلکہ تبلیغ کر کے اپنے آپ کو وسیع کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔اس وقت مسلمان بے کسی کی حالت میں پڑا ہے۔اس وقت وہ سچائی پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔وہ اس ہاتھ کے لئے ترس رہا ہے جو اس کو پکڑ کر نجات کی طرف لے جائے۔اگر آج آپ لوگ صحیح طور پر جماعتوں کو بیدار کرنے کی طرف توجہ کریں تو ہندوستان میں احمدیت کے پھیلنے کا بے نظیر موقع ہے۔سر دست مولوی بشیر احمد صاحب یو۔پی کی جماعتوں کو منظم کریں اور یو۔پی کے تمام چندے سوائے تحریک جدید کے چندہ کے جو غیر ممالک کی تبلیغ پر خرچ ہو تا ہے قادیان بھجوائیں آپ لوگ باقاعدہ خط و کتابت کے ذریعہ سے ہمیں بتاتے رہیں کہ فلاں فلاں جماعت منتظم ہو گئی ہے اور ان کا چندہ قادیان میں آنے لگ گیا ہے تا ایسا نہ ہو کہ دو عملی کی وجہ سے کوئی جماعت بالکل تباہ ہو جائے۔جب آپ یو۔پی کی جماعتوں کو منظم کرلیں گے تو ہم دوسرے صوبوں کو باری باری آپ کے سپرد کرتے چلے جائیں گے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اب خاموشی سے جھنڈے کو پکڑ کر کھڑے رہنے کا وقت گذر چکا۔وہ کام آپ نے شاندار طور پر کیا جس کے لئے دنیا بھر کے احمدی آپ لوگوں کے ممنون ہیں اور آنے والی نسلیں بھی آپ کی ممنون رہیں گی۔مگر انسان ایک بڑھنے والی ہستی ہے۔ہر روز اس کے حالات متغیر ہوتے ہیں اور ہر روز کے بدلے ہوئے حالات کے مطابق اسے کام کرنا پڑتا ہے کل کی روٹی آج کام نہیں آسکتی اور آج کی روٹی آنے والے کل کام نہیں آسکتی۔پس وہ عظیم الشان خدمت جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق بخشی ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپ اب اگلا قدم اٹھائیں اور قادیان کے خاموش مرکز کو ایک زندہ مرکز میں تبدیل کر دیں۔ہندوستان یونین کی آبادی ۲۸۔۲۹ کروڑ کے قریب ہے۔اس کی اصلاح اور اس کی نجات کوئی معمولی کام نہیں ، کسی زمانہ میں ساری دنیا کی آبادی اتنی ہی تھی۔پس آج سے سینکڑوں سال پہلے ساری دنیا کی اصلاح کا کام جتنا اہم تھا اتنا ہی آج ہندوستان کی اصلاح کا کام اہم ہے۔جن لوگوں کو خدا